دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 9 | فتاوی رضویہ ۹

book_icon
فتاوی رضویہ ۹

فتاوٰی سراجیہ دیکھئے اس میں بھی یہ عبارت بعینہٖ اسی طرح ہے۔ اس کے بعد اتنا زائد ہے۔

ذکرہ الشیخ الامام الزاھد الصفار البخاری رحمہ اﷲ تعالٰی فی کتاب الاعتقاد [1] ۔

یہ مسئلہ شیخ امام زاہد صفار بخاری رحمہ اﷲ تعالٰی نے کتا ب الاعتقاد میں ذکر فرمایا ۔

ظاہر ہے کہ یہاں قبور عوام کا ذکرہے کہ اعراس طیبہّ یا مزارات اولیاء کی روشنی فقط پہلی چند راتوں میں نہیں ہوتی، او رظاہر ہے کہ وہ ایك عادت خاصہ کا بیان ہے ورنہ لیالی اول کی تخصیص بے وجہ تھی، اب جس طر ح یہاں جُہّال میں رواج ہے کہ مردہ کی جہاں کچھ زمین کھود کرنہلاتے ہیں جسے عوام لحد کہتے ہیں، چالیس رات چراغ جلاتے اوریہ خیال کرتے ہیں کہ چالیس شب روح لحد پرآ ۤتی ہے اندھیرادیکھ کر پلٹ جاتی ہے، یوں ہی اگر وہاں جُہال میں رواج ہوکہ موت سے چندرات تك گھروں سے شمعیں جلا کر قبروں کے سرہانے رکھ آتے ہوں او ریہ خیال کرتے ہوں کہ نئے گھر میں بے روشنی کے گھبرائے گا۔ تواس کے بدعت ہونے میں کیا شبہہ ہے۔ اور اس کا پتا یہاں بھی قبروں کے سرہانے چراغ کے لیے طاق بنانے سے چلتا ہے، اور بیشك اس خیا ل سے جلانا فقط اسراف و تضییعِ مال ہی نہیں کہ محض بدعت عمل ہو، بلکہ بدعتِ عقیدہ ہوئی کہ قبر کے اندر روشنی واموات کااس سے دل بہلنا سمجھا، ولہذا امام صفار رحمہ اﷲ تعالٰی نے اس مسئلہ کو کتاب الاعتقاد میں ذکر فرمایا ۔ اب ملاحظہ ہو کہ اس روایت کو ہمارے مسئلہ سے کیا تعلق رہا! وَالْاِحْتِمَالُ یَقْطَعُ الْاسَتِدْلاَلَ (اور احتمال ، استدلال ختم کردیتا ہے ۔ت)

(۱۵) اس روایت میں اخراج کا لفظ بھی قابل لحاظ ہے، قبور عوام ہی کی یہ حالت ہوتی ہے کہ وہاں نہ کوئی مکان ہوتا ہے نہ حاضر رہنے والے، نہ کوئی سامانِ روشنی، گھر ہی سے چراغ لے جانا پڑتا ہے بخلاف مزاراتِ طیبہ کے کہ وہاں گھر سے لے جانے کی حاجت نہیں ہوتی، تو ذکر قبور عوام ہی کا ہے، اور اگر زید نہ مانے اور اسے چراغاں مزارات طیبہ کی نسبت جانے تو آٹھ برس سے تو اس روشنی کا ثبوت ہوگیا، جسے زید نے مشائخ زمانہ کا فعل کہا کہ امام زاہد صفار رحمہ اﷲ تعالٰی کی وفات ۵۳۴ ھ میں ہے[2] کمافی الطبقات الکبری وکشف الظنون ( جیسا کہ طبقات کبرٰی اورکشف الظنون میں ہے ۔)

(۱۶) سب سے زیادہ خوفناك تحریف یہ ہے تَتَّخِذُوْنَ عَلَیْھِمْ مَّسَاجِدَ کو قرآن عظیم کا لفظ کریم بنالیا، حالانکہ یہ جملہ قرآن عظیم میں کہیں نہیں، یہ تینوں لفظ متفرق طور پر ضرور قرآن عظیم میں آئے ہیں مثلا تَتَّخِذُوۡنَ مَصَانِعَ [3]۔ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہ [4]۔ وَّ مَسٰجِدُ یُذْکَرُ فِیۡہَا اسْمُ اللہِ [5]۔ مگر اس ترکیب وترتیب سے کہیں نہیں___

 



[1] فتاوٰی سراجیہ کتاب الکراہیۃ منشی نولکشور لکھنؤ ص ۷۳

[2] کشف الظنون

[3] القرآن ۲۶ / ۱۲۹

[4] القرۤان ۱/ ۷

[5] القرآن ۲/ ۱۱۴

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن