30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسے ملاحظہ کیجئے، کہ حق واضح ہے اور خیانت وحق پوشی دونوں کی پوری پہچان ہے۔ جس صاحب کو انکار ہو، گنتے گنتے بھول گئے، پھر گن لو، جناب مولوی تھانوی صاحب سے ان سوالوں کے جواب دلوالو، بہادری تو جب ہے کہ ان کے منہ کی مہر کھلوالو۔ کچھ ایسا بہت سا قضیہ نہیں، کچھ علمی مباحث دقیقہ نہیں، حق گوئی حق پوشی کا سیدھا سا امتحان ہے کہ دہلوی صاحب کا جب تك نام معلوم نہ تھا کفر والحاد کا حکم مرقوم تھا، اب کہ قائل معلوم ہوا کہ وہ حکم کس لیے معدوم ہوا، کیا کوئی نئی شریعت آگئی،تحذیر الناس نئی نبوت کا سکہ جماگئی جس نے شریعت مصطفویہ علٰی صاحبہا افضل الصلٰوۃ والتحیۃ منسوخ کردی۔ امام جی کی قبر اَمْ لَکُمۡ بَرَآءَۃٌ فِی الزُّبُرِ ﴿ۚ۴۳﴾ ( کیا تمھارے لیے کتابوں میں کوئی براءت ہے ۔ت) سے بھردی، او راگر نہیں تو کیوں نہیں اپنے ہونٹ کھولتے؟ کیوں نہیں وہ حُکمِ کفر والحاد بولتے ؟ بیّنوا توجّروا، (بیان کرکے اجر پاؤ۔ ت) او رنہیں تو زید صاحب ہی اتنا ثواب لیں اس فتوے کے ساتھ وہ سوال بھی حاضر ہوتے ہیں حضرت تھانوی صاحب سے اب جواب لیں، زید صاحب کی تحریر پکار رہی ہے کہ ان کو انصاف وحق جوئی سے دلچسپی ہے وہ ضرور تھانوی صاحب کی خبر لیں گے اور اب جواب نہ ملنے پر انصاف کرلیں گے، اے رب توفیق دے،ہدایت طریق دے، آمین آمین، والحمد ﷲ رب العالمین۔
(۱۰) اب زید صاحب کے حوالوں پر نظر ڈالئے، درمختار کاحوالہ محض غلط ہے،۔
(۱۱)عٰلمگیری کی عبارت میں لااصل لہ ( اس کی کوئی اصل نہیں ۔ت) اپنی طرف سے بڑھا لیا۔
(۱۲) بزازیہ کی عبارت سے واتلاف مالٍ ( مال کا ضیاع ۔ت) کم کردیا جس سے علتِ منع ظاہر ہوتی کہ جہاں بے فائدہ محض ہے وہاں ممانعت ہے۔
(۱۳) پھر اس کی کیا شکایت کہ علمگیری میں اِلٰی رَاْسِ الْقُبُوْرِ (قبروں کے سرہانے ۔ ت) تھا، اسے اَلیَ الْمَقَابِر( قبروں کی طرف ۔ت) بنالیا تاکہ عموم بڑھ جائے۔
(۱۴) ہاں پوری چالاکی یہ ہے کہ عبارت عٰلمگیری سے فیِ اللَّیَالِی الْاَوَّلِ (پہلی چندراتوں میں ۔ ت)کا لفظ اڑا دیا ، علمگیری کی اصل عبارت یہ ہے:
|
اِخْراَجُ الشُّمُوْعِ اِلٰی رَاْسِ الْقُبُوْرِ فِی اللَّیَالِی الْاُوَلِ بِدْعَۃکَذَا فِی السِّرَاجَیَّۃِ ۔ [1] |
یعنی موت کی پہلی چندراتوں میں شمعیں گھروں سے قبروں کے سرہانے لے جانا بدعت ہے، ایسا ہی فتاوٰی سراجیہ میں ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع