30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جب حضرات یہ فتوٰی دے چکے ، اب مسلمانوں نے پندرہ سوال کا استفتاء ان حضرات سے کیا ا وراسمٰعیل دہلوی صاحب اور ان کی ناقص کتاب"ایضاح الحق"کانام وکلام کھو ل کر دکھایا کہ مفتی صاحبو! وہ شریعت کا حکم اب بھی مانو گے یا طائفہ کے پیر جی کو خدا کی حکومت سے باہر جانو گے؟ ۲۸ صفر ۱۳۲۹ ھ کو یہ استفتاء طبع ہو کر شائع ہوا ، تین برس ہونے کو آئے ہیں سب صاحب ساکت وخاموش درخوابِ خرگوش ، مشکل تو یہ ہے کہ بولیں توکیا بولیں، قسمت کا لکھا کیونکر دھولیں، اپنے منہ اپنے امام الطائفہ پر کفر کا فتوٰی لگا چکے ہیں اب ا س سے پھریں توکیونکر، اور امام الطائفہ پر حکمِ کفر کریں تو کیونکر؟ اب وہ فتوٰی سانپ کے منہ کی چھچھوندر ہوگیا کہ اگلے تو اندھا ، نگلے تو کوڑھی، چارنا چار سکوت کی اوڑھی ، اسے حق پوشی کہتے ہیں، اسے ناحق کوشی کہتے ہیں،اسے پیر جی پرستی کہتے ہیں، اسے بادہ خیانت کی بدمستی کہتے ہیں، بلاپس ہو ، جواب نہ دیتے دل میں پشیماں تو ہوتے کہ جسے خود اپنے فتووں میں کفر بکنے والا ، بددین ملحد، زندیق لکھ چکے، اب تواس کی غلامی چھوڑیں، اسے پیشوا ماننے سے منہ موڑیں ، مگر حاشا ؎
چُھٹتی کہاں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی
اب تك وہ ویسا ہی چنین وچناں، ویساہی امام، یہ اس کے ویسی ہی چناں چنیں، ویسے ہی غلام۔
مسلمانو! انصاف کرو،یہ کون سادین ہے ، کون سی دیانت ہے، اور اس پر ادعائے ایمان وامانت ہے، ولاحول ولاقوۃ الاّباﷲ العلی العظیم۔
مسلمانو ! اس کا تعجب نہیں کہ اﷲ واحد قہار محمدرسول اﷲ سید الابرار جل جلالہ وصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی سخت سے سخت
توہینیں کرنے والے کیوں اپنے باطل پر ایسے اڑے ہیں؟ کیوں چاہِ ضلالت میں اوپر تلے یوں اوندھے پڑے ہیں، عجب تو یہ ہے کہ دیکھنے والے یہ کچھ ان کے کوتك دیکھیں ا ور پھر ان کے جُبّہ ودستار کے دام میں پھنیں، گویا یہ حرکات ایك سہل سی بات، ناقابل التفات، کوئی کسی کا دس پانچ روپے کا مال چرالے یا دغا سے دبالے ہمیشہ کو نظرو ں سے گرجائے، چو ردغا باز نام قرار پائے۔ ا ورمعاذ اﷲ ! اگرکوئی کسی مشہور بنام علم پر ایسا الزام عائد ہو تواس کی تشہیر حد سے زائد ہو،دس پانچ روپے کا جُرم یوں ناقابل تلافی، اور خاص دین و مذہب وعقائد میں ایسی چوری خیانت سب معافی، معافی کیسی خطاہی نہیں، وضوئے تمیز کبھی ٹوٹا ہی نہیں، یہ کیا ظلم ہے؟ کیا بے پروائی ہے، کیسی آنکھوں پر چربی چھائی ہے۔ مسلمانو! آنکھ کھولو، ورنہ پیشی فردا کے لیے مستعد ہولو ؎
بروز حشر شود ہمچو صبحِ معلومت کہ باکہ باختہ عشق درشبِ دیجور
( حشر کے دن صبح کی طرح تجھ پر واضح ہوگا کہ تونے اندھیری رات میں کس سے عشق بازی کی ہے ۔ت)
اس تمام شرمناك واقعہ کی تفصیل اور وہ پندرہ سوال ایك مختصر رسالے"دیوبندی مولویوں کا ایمان"میں ہے،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع