30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پھر رعایت وخوف سے سکوت کیامعنی !فقیر کے یہاں علاوہ ردِّ وہابیہ خذلہم اﷲ تعالٰی ودیگر مشاغل کثیرہ دینیہ کے کار فتوٰی اس درجہ وافر ہے کہ دس مفتیوں کے کام سے زائد ہے۔ شہر ودیگر بلاد امصار جملہ اقطار ہندوستان وبنگال وپنجاب و ملیبار وبرہما وارکان و چین وغزنی وامریکہ وافریقہ حتی کہ سرکار حرمین شریفین محترمین سے استفتاء آتے ہیں ا ور ایك وقت میں پانچ پانچ سو جمع ہوجاتے ہیں۔ اس میں اگر جواب میں تاخیریں ہوں یابعض استفتاء تحریر ٫جواب سے رہ جائیں تو کیا جائے شکایت ہے لَا یُکَلِّفُ اللہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَاؕ [1](خداکسی کو اس کی وسعت سے زیادہ کا مکلف نہیں بناتا ۔ت) ان صاحب کا استفتاء باوصف تلاش کاغذات میں نہ نکلا، ممکن ہے کہ ہجوم انبار میں نہ ملا ہو یا آیا ہی نہ ہو یا بھیجا ہی نہ ہو اور جس طرح اہل اﷲ پر تعبد غیر کا خیال بندھ گیا اس کا بھیجنا متخیل ہوا ہو۔ بہر حال رعایت کی صورت یہ نہیں ہوتی، ہاں ہاں!کھلی کھلی رعایت و اغماض اور اپنے ساختہ متبوع کی خاطرحق سے صریح اعراض وہ ہے جو حضرات دیوبند کرتے ہیں، اسمٰعیل دہلوی صاحب نے اپنی کتاب مسمی بہ"ایضاح الحق"میں زمان ومکان وجہت سے اﷲ عزوجل کو منزہ ماننا او راس کے دیدار بلاکیف وجہت ومحاذات حق جاننا بدعت حقیقیہ کے قبیل سے بتایا جبکہ اس عقیدہ کو کوئی دینی عقیدہ تصور کرے جس سے صاف روشن کہ مذہبی طور پر اﷲ عزوجل کو زمان ومکان وجہت سے پاك جاننا او راس کا دیداربلاکیف ماننا ضلالت وگمراہی و فی النار ہے۔ اوراہل سنت کے تمام ائمہ سلف و خلف معاذاﷲ سب بدعتی وگمراہ تھے، ایك مسلمان نے دہلوی صاحب کے اس اقوال کا دیوبندی صاحبوں سے استفتاء کیا اور حسبِ دستور مسائل عمرو ،بکر لکھ کر دریافت کرتے ہیں دہلوی صاحب کانام نہ لکھا اس پر عالیجناب شیخ الگناگہہ جناب مولوی رشید احمد) گنگوہی صاحب نے یہ جواب تحریر فرمایا:
الجواب:
"یہ شخص اہلسنت وجماعت صالحین سے جاہل اور بے بہرہ ہے اور یہ اعتقاد اور مقولہ جو درج سوال ہے کفر ہے۔ نعوذ باﷲ منہ۔ حضرت سلف صالحین اور ائمہ دین کایہی مذہب ہے اوریہی احادیث صحیحہ وکلام شریف کی آیات سے ثا بت ہے کہ حق تعالٰی جل شانہ زمان ومکان وجہت سے پاك ہے، اور دیدار اس کا بہشت میں مسلمانوں کو نصیب ہوگا، چنانچہ عقاید اس سے مشحون ہیں، واﷲ تعالٰی اعلم، بندہ رشید احمد گنگوہی ۔"اوراس پر حضرات دیوبند مولوی محمود حسن صاحب وعزیز الرحمان صاحب وغیر ہما نے مہریں کیں، اور جناب اسمٰعیل صاحب دہلوی پر بددین ، ملحد، زندیق کی چوٹیں جڑیں، علی الخصوص ہمارے ذکر کے قابل عالیجناب مولوی اشرفعلی تھانوی صاحب ہیں جنھوں نے اس حکم کفر دہلوی صاحب پر یوں تصدیق فرمائی :"الجواب الصحیح۔اشرفعلی عفی عنہ"۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع