30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۵) زید نے کبھی تعبد کو تقرب سے تعبیرنہیں کیا کہ"محض تعبدًا یعنی ازراہ تقرب کیا جاتا ہے"اور کبھی تقرب کو تعبد سے تفسیر کیا کہ"اگر تقرب بمعنی تعبد منظور نہیں تقرب یعنی تعبد ہے"گویا اس کے خیال میں تقرب وتعبد شیئ واحد یعنی ایك ہی چیز ہے ، یہ محض باطل ہے، بلکہ تقرب تعبد کے اعم سے اعم ہے، تعبد سے تعظیم اعم ہے کما علمت ( جیسا کہ اوپر معلوم ہوچکا ۔ت)اور تعظیم سے تقر ب اعم ہے کہ بنائے رباط وارسال ہدایا۔ تقرب ہے تعظیم نہیں وتفصیل المقام فی تعلیقاتنا علٰی ردالمحتار ( اور اس مقام کی تفصیل ہمارے حاشیہ ردالمحتار میں ہے ۔ت)
(۶) اسے تقرب بروجہ تعبد بتانا مسلمانوں پر کیسی سخت بدگمانی اور اس پر جرم کرنا مسلمان پر کیساصریح ظلم و افتراء ہے۔ درمختار میں منیۃ الفتاوٰی وذخیرۃ وشرح وہبانیہ سے ہے :
|
انا لانسیئ الظن بالمسلم انہ یتقرب الٰی الاٰدمی بھٰذا النحو۔[1] |
کسی مسلمان کے متعلق ہم یہ بدگمانی نہیں کرسکتے کہ وہ کسی انسان کی طرف اس طرح کا تقرب کرے گا۔ (ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
ای علی وجہ العبادۃ لانہ المکفر وھذا بعید من حال المسلم [2]۔ |
یعنی عبادت کے طور پر تقرب اس لیے کہ اس سے آدمی کافر ہوجاتا ہے اوریہ مسلمان کے حال سے بعید ہے ۔(ت) |
طرفہ یہ کہ زید نے کہا"پیرزادے اس کوکرتے چلے آئے ہیں مگر پیرزادہ گان صالح ہوں، اہل اﷲ ہوں معصوم نہیں، جہاں ہزاروں نیك کام مشائخ زمانہ کرتے ہیں، ایك یہ ناجائز بھی کسی مصلحت سے کرلیا، خدا معاف کرنے والا ہے ۔"سبحان اﷲ ! صالح بھی ہیں، اہل اﷲ بھی ہیں، اور غیر خدا کے عابد بھی ہیں، اس سے بڑھ کر محال کیا ہوگا!
(۸) جب زید کے نزدیك وہ تعبد ہے توقطعا شرك ہوا ،ا ور شرك ہر گز معاف نہ ہوگا اِنَّ اللہَ لَا یَغْفِرُ اَنۡ یُّشْرَکَ بِہٖ [3](بیشك اﷲ شرك کو نہیں بخشتا ۔ت) پھر اس جملہ کا کیا محل رہا کہ"خدا معاف کرنے والا ہے ۔"
(۹) جب ہزارہا بندگان صالحین واہل اﷲ پر یہاں تك بدگمانی ہے کہ تعبد غیر کا الزام ان کے سر تھوپا جاتا ہے، اور نہ صرف ظن بلکہ اس پر جزم کیا جاتاہے ۔ تواس کی کیا شکایت کہ فقیر کے پاس سے جواب مسئلہ نہ پہنچنے کو پیرزادوں کی رعایت کے سبب سکوت عن الحق پر محمول کیا، فتاوٰی میں اس سوال کے جواب میں ،متعدد مقامات پر مذکور سالہا سال سے اس پر مستقل فتوٰی مرقوم۔ خاص اس باب میں چھبیس برس سے رسالہ"طوالع النور"مکتوب،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع