30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اپنے فتاوٰی میں اسے بیان کیا ہے۔ ت) اس کے علاوہ خاص روشنی مزار کریم کی نسبت ان سے بھی بہت اقدم امام اجل واقلم کا ارشاد بعونہٖ تعالٰی عنقریب آتا ہے۔ زید نے ایك ہی عالم مستند کا قول ملنے پر قبول وسرنہا دن کا وعدہ کیا تھا۔ ان تحقیقات ائمہ مستندین اجلہ معتمدین و وعدہ زید کے بعد زیادہ کی حاجت نہیں، مگر اجمالًا بعض جملے اور گزارش ہوں کہ عوام بھائی شبہہ میں نہ پڑیں، واﷲ الموفق:
(۱) امام ممدوح قدس سرہ نے جس طرح اصل مسئلہ کا فیصلہ فرمایا ، زید کے اس بے معنٰی اعتراض کی بھی کہ"اہل اﷲ کے مزار پر کرتے ہیں معمولی آدمی کی قبر پر نہیں کرتے"غلطی ظاہر فرمادی کہ ان پہلے تین فوائد عامہ کے بعد چوتھے فائدہ میں خاص مزارات اولیاء کرام کی تخصیص فرمائی، نیز اس کا وجوب ائمہ سلف دے چکے ہیں جن کا ارشاد مجمع بحارالانوار سے گزرا کہ مزارات اولیاء کرام وعلمائے عظام پر بنائے عمارت جائز ہے، عوام وفساق کی قبور پر کیوں نہ اجازت دی،
اقول: آدمی اگر آیہ کریمہ ذٰلِکَ اَدْنٟٓىاَنۡ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیۡنَ ؕ[1]( وہ اس سے زیادہ قریب ہے کہ ان کی پہچان ہو جائے تو انھیں ایذا نہ دی جائے، ت) کہ حکمتِ جلیلہ سے آگاہ ہو جس سے وجہ استنباط طوالع النور میں مذکور تو ایسا مہمل اعتراض ہر گز خیال میں بھی نہ آئے۔ امام ممدوح قدس سرہ نے زید کے اس سوال کا کہ"بزرگوں کی قبروں پر کیوں کرتے ہیں، کسی فاسق وفاجر کی قبر پر کیوں نہیں کرتے"جواب ارشاد فرمایا کہ تعظیمًا لروحہ المشرقۃ علٰی تراب جسدہ [2]الخ یعنی ان کی روح کی تعظیم کی جاتی ہے اور لوگوں کو دکھا یا جاتا ہے کہ یہ مزار محبوب کا ہے اس سے تبرك وتوسل کرو کہ تمھاری دُعا مستجاب ہو۔
امام ممدوح قدس سرہ نے زید کے اس توہم کا بھی علاج فرمادیا کہ تعظیما لروحہ ( ان کی روح کی تعظیم کے لیے ۔ت) معاذ اﷲ! یہ تو ان کی عبادت نہیں ان کی روح پاك کی تعظیم ہے۔ ہرتعظیم عبادت ہوتو تعظیم انبیاء علیہم الصّلوٰۃ والسلام تو نصوص قطعیہ قرآن عظیم سے فرض ہے۔ قال اﷲ تبارك وتعالٰی:
|
لِّتُؤْمِنُوۡا بِاللہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ تُعَزِّرُوۡہُ وَ تُوَقِّرُوۡہُ ؕ [3] ۔ |
ہم نے اپنے رسول کو اس لیے بھیجا کہ اے لوگو! تم اﷲ ورسول پرایمان لاؤ او ررسول کی تعظیم وتوقیر کرو۔ |
وقال تبارك وتعالٰی :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع