30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الزمان والمکان۔[1] |
بدل جاتے ہیں۔ |
یعنی ایسی جگہ احکامِ سابقہ سے سند لانا حماقت ہے، جوحاجت اب واقع ہوئی اگر زمانہ سلف میں واقع ہوتی تو وہ بھی حکم کرتے جواس وقت ہم کرتے ہیں، جیسے ام المومنین حضرت صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا نے فرمایا:
|
لَوْرَاٰی النّبِی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مَااَحْدَثَ النِّسَآءُ لَمَنَعَھُنَّ الْمَسَاجِدَکَمَا مِنْعَتْ نَسَاءُ بَنِیْ اِسْرائَیلَ [2]۔ |
یعنی اگر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ملاحظہ فرماتے جو باتیں عورتوں نے اب تك نکالی ہیں،انھیں مسجدوں سے منع فرمادیتے جیسے بنی اسرائیل کی عورتوں کو مسجدوں سے منع کیا گیا تھا۔ (ت) |
اور آخر ائمہ دین نے عورات کو مسجدوں سے منع فرماہی دیا، حالانکہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا تھا :
|
اَتَمْنَعُوْا اِمَاء اﷲِ مَسَاجِدَ اﷲِ [3]۔ رواہ احمد ومسلم عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنھما۔ |
اﷲ تعالٰی کی باندیوں کو اﷲ تعالٰی کی مسجدوں سے نہ روکو اسے امام احمد ومسلم نے حضرت ابن عمررضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا (ت) |
کیا ائمہ دین نے نظر بحال زمانہ جو حکم فرمایا اسے حدیث کی مخالفت کہا جائے گا؟ حاش ﷲ!ایسا نہ کہے گا مگر احمق ، کج فہم، یوں ہی یہ تازہ تعظیموں کے احکام ہیں۔ سلف صالحین کے قلوب تعظیم شعائراﷲ سے مملو تھے۔ ظاہری تزك واحتشام کے محتاج نہ تھے، تو ان کے وقت میں یہ باتیں عبث وبے فائدہ تھیں اور ہر عبث مکروہ۔ اور اس میں مال صرف کرنا ممنوع، اب کہ بے تزك واحتشام ظاہری قلوب عوام میں وقعت نہیں آتی ان باتوں کی حاجت ہوئی، مصحف شریف پر سونا چڑھانے کی اجازت ہوئی مسجدوں میں سونے کے کلس ،سونے چاندی کے نقش نگار کی اجازت ہوئی، مزارات پر قبہ بنانے، چادر ڈالنے ، روشنی کرنے کی اجازت ہوئی، ان تمام افعال پر بھی احادیث واحکام سابقہ پیش نہ کرے گا مگر سفیہ ونافہم۔ یہ مختصر شرح ہے اس ارشاد امام ممدوح قدس سرہٰ کی، اور اس کی تفصیل بازغ وتحقیق بالغ ہمارے رسالہ طوالع النور فی حکم السراج علی القبور میں ہے وباﷲا لتوفیق۔
یہی امام جلیل کشف النور میں ، پھر علامہ شامی ردالمحتار فصل اللبس اور عقودالدریہ مسائل شتی میں مزارات اولیاء کرام پر غلاف ڈالنے کی نسبت بھی اسی تعظیم سے استدلال فرماتے ہیں کما بیناہ فی فتاوٰنا ( جیسا کہ ہم نے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع