30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فتاوی بقدر ما احدثواوقد احدث الناس مؤمنھم وکافرھم تشیید بیوتھم وتزیینھا ولوبنینا مساجد ناباللبن وجعلنٰھا متطامنۃ بین الدور الشاھقۃ و ربما کانت لاھل الذمۃ لکانت مستہانۃ [1]۔ |
نئی نئی باتیں پیدا ہوتی گئیں ویسے ہی ان کے لیے فتوے نئے ہوئے کہ اب مسلمانوں کا فروں سب نے اپنے گھروں کی گچکاری اور آرائش شروع کردی، اگرہم ان بلند عمارتوں کے درمیان جو مسلمین تو مسلمین کافروں کی بھی ہوں گی کچّی اینٹ اور نیچی دیواروں کی مسجدیں بنائیں تونگاہوں میں ان کی بے وقعتی ہوگی۔ |
اسی قبیل سے ہے مزارات اولیاء کرام وعلمائے عظام قدست اسرارہم پر عمارات کی بناء کہ باوصف حدیث مسلم وابوداؤد ونسائی ومسند احمد:
|
عن جابر رضی اﷲ تعالٰی عنہ نھی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان یقعد علی القبروان یجصص وان یبنی علیہ [2]۔ |
حضرت جابر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے قبر پر بیٹھنے،اسے گچ سے پکی کرنے اور اس پر عمارت بنانے سے منع فرمایا ۔(ت) |
جس میں صراحۃً اس کی ممانعت ارشادہوئی ہے سلفًا وخلفًا ائمہ کرام و علمائے اعلام نے جائز رکھی تکملہ مجمع بحارالانوار جلد ثالث صفحہ ۱۴۰ میں ہے :
|
قد اباح السلف البناء علی قبور الفضلاء الاولیاء والعلماء لیزورھم ویستریحون فیہ [3]۔ |
بیشك ائمہ سلف صالحین نے اہل فضل اولیاء وعلماء کے مزارات طیبہ پر عمارت بنانا مباح فرمادیا کہ لوگ ان کی زیارت کریں اور ان میں راحت پائیں۔ |
جواہر اخلاطی میں ہے :
|
ھو وان کان احداثا فھو بدعۃحسنۃ وکم من شیئ کان احداثًا وھوبدعۃ حسنۃ وکم من شیئ یختلف باختلاف |
یعنی یہ اگر چہ نَو پیدا ہے پھر بھی بدعت حسنہ ہے اور بہت سی چیزیں ہیں کہ نئی پیدا ہوئیں اور ہیں اچھی بدعت، اور بہت احکام ہیں کہ زمانے یا مقام کی تبدیلی سے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع