30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
نُوْرِك الْانْوَرَ وَاٰلِہٖ السَّرْجَ الْغُرَرِ وَصَحْبِہِ الْمَصَابِیْحِ الزَّھْرِ صَلٰوۃً تُنَوَّرُ بِھَا وُجُوْھُنَا وَصُدُوْرُنَا وَقُلُوْبُنَا وَقُبُوْرُنَا اٰمِیْن۔ |
جو روشن چراغ ہیں اور ان کے اصحاب پر جو تابناك مصباح ہیں درود نازل فرما ایسا درود جس سے ہمارے چہرے، ہمارے سینے، ہمارے دل اور ہماری قبریں روشن ہوجائیں، الہٰی قبول فرما ۔(ت) |
امام علامہ عارف باﷲ سیدی عبدالغنی بن اسمٰعیل بن عبد الغنی نابلسی قدسنا اﷲ بسّرہ القدسی کتاب مستطاب حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ مطبع مصر جلد دوم ص ۴۲۹ میں فرماتے ہیں:
|
قال الوالد رحمہ اﷲ تعالٰی فی شرحہ علٰی شرح الدرر من مسائل متفرقۃ اخراج الشموع الی القبور بدعۃ اتلاف مال کذا فی البزازیۃ اھ وھذا کلہ اذاخلا عن فائدۃ وامااذاکان موضع القبور مسجدا اوعلٰی طریق اوکان ھناك احد جالس اوکان قبر ولی من الاولیاء اوعالم من المحققین تعظیمًا لروحہ المشرقۃ علٰی تراب جسدہ کاشراق الشمس علی الارض اعلاماللناس انہ ولی لیتبرکوا بہ ویدعوا اﷲ تعالٰی عندہ فیستجاب لھم فھو ا مرجائز لامنع منہ والاعمال بالنیات [1]۔ |
یعنی والد رحمہ اﷲ تعالٰی نے حاشیہ درر و غرر میں فتاوٰی بزازیہ سے نقل فرمایا کہ قبروں کی طرف شمعیں لے جانا بدعت اور مال کا ضائع کرنا ہے، یہ سب اس صورت میں ہے کہ بالکل فائدہ سے خالی ہو، اور اگر شمعیں روشن کرنے میں فائدہ ہو کہ موضع قبور میں مسجد ہے یا قبور سرراہِ ہیں یا وہاں کوئی شخص بیٹھا ہے یا مزار کسی ولی اﷲ یا محققین علماء میں سے کسی عالم کا ہے وہاں شمعیں روشن کریں ا ن کی روح مبارك کی تعظیم کے لیے جو اپنے بدن کی خاك پر ایسی تجلی ڈال رہی ہے جیسے آفتاب زمین پر، تاکہ اس روشنی کرنے سے لوگ جانیں کہ یہ ولی کا مزار پاك ہے تاکہ اس سے تبرك کریں او ر وہاں اﷲ عزوجل سے دعامانگیں کہ ان کی دعا قبول ہوتو یہ امر جائز ہے اس سے اصلًا ممانعت نہیں، اور اعمال کا مدار نیتوں پر ہے ، |
پھر فرماتے ہیں:
|
روی ابوداؤد والترمذی عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنھما ان رسول اﷲ صلی اﷲ |
ابوداؤد اور ترمذی نے ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع