30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۲) قبرشریف حجرہ حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنھا میں واقع ہے جس کے چاروں طرف مسجد نبوی ہے اور مسجد میں روشنی کرنے کا ثواب احادیث میں موجود ہے۔
(۳) قبر شریف درحقیقت روپوش ہے آج ہفت اقلیم کا بادشاہ بھی اس کو نہیں دیکھ سکتا۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ
خلیفہ ہارون الرشید نے سیڑھی لگا کر دیکھنا چاہا ناکامیاب رہا۔
(۴) مدینہ منورہ میں روشنی منجانب سُلطان ٹرکی ہوتی ہے، گورنمنٹ ٹرکی نے عثمانیہ بینك قائم کرکے سود کا لین دین شروع کردیا ہے، کیا گورنمنٹ کے بھی فعل سے سود جائز ہوسکتا ہے ؟ ہرگز نہیں۔
(۵) نزدیك اہلسنت والجماعت کے حجت شرعی صرف چار ہیں: قرآن وحدیث واجماع وقیاس مجتہدین صرف تعامل حرمین کوئی سند نہیں۔
(۶) بڑا حصہ حرمین شریفین کا داڑھی کترواتاہے، کیا داڑھی کتروانے کے جواز میں کوئی شخص یہ سند پیش کرسکتا ہے کہ وہاں کے لوگ داڑھی کترواتے ہیں ، لہذا یہ فعل جائز ہے، وہاں کے علماء سے خود فتوٰی لیا جائے وہ داڑھی کتراتے چراغاں کرنے کو یقینا ناجائز کہیں گے۔
(۷) اب ایك تاویل ضعیف او رایجاد ہوئی ہے کہ متقدمین ومتاخرین کسی کو بھی نہیں سوجھی، یعنی قبر پر چراغ جلانے کی ممانعت ہے لیکن قبر کے گرد جلانے میں ممانعت نہیں ہے کیونکہ حدیث شریف میں لفظ علٰی بمعنی پرواقع ہے، اردو میں کیا قبرپر چڑھا واصرف اسی کو کہتے ہیں جو خاص اس جگہ پر کیا جائے جتنے حصہ کو قبر کہتے ہیں ، بعض قبرکی صورت کوہانِ شتر کے مانند ہوتی ہے اس پر چڑھا واغالبًا ممکن بھی نہ ہوگا، لیکن قبر پر چڑھا وا تو اتنا وسیع ہے کہ گرد قبر سے بلکہ دروازے کے آس پاس بھی کوئی رکھ دے تو وہ قبر کا چڑھاوا سمجھا جائے گا اور رسول خدا (صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم) کے فرمانے کی یہ تاویل ضعیف ہے۔ قرآن شریف سورہ کہف میں لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیۡہِمۡ مَّسْجِدًا ﴿۲۱﴾ [1] ( قسم ہے کہ ہم تو ان پر مسجد بنائیں گے ۔ت) کیا اس کے یہ معنی ہیں کہ اصحابِ کہف کے سینہ پر سنگِ بنیاد مسجد کا رکھیں گے ، استغفراﷲ ۔ایك صاحب نے یہ کمال کیا کہ ملاعلی قاری کی نسبت کہہ دیا کہ انھوں نے گر د قبر کے چراغ جلانے کو جائز کہا ہے، حالانکہ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ مطبوعہ مصر صفحہ ۴۷ میں حدیث مندرجہ مشکوٰۃ شریف مذکور بالا کی شرح میں انھوں نے صر ف مسجد کو اطرافِ قبرمیں بنانے کی اجازت اس بنیاد پر دی ہے کہ عبادت یہود ونصارٰی یہ تھی کہ وہ قبر پر مسجد بناتے تھے، اور چونکہ مشابہت یہود و نصارٰی کی وجہ سے ممانعت ہوئی تھی لہذاجب مشابہت نہ رہی تویہ فعل جائز ہوگیا۔ لیکن چراغ کی ممانعت کے وجوہ حضرت ملا علی قاری نے
عــــہ: زید کی اصل عبارت میں تتخذون ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع