30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فتاوٰی بزازیہ میں ہے۔ دُرمختار میں بھی یہی نکلا۔ پھر میں نے حدیث شریف کو دیکھا۔ مشکوٰۃ شریف میرے پاس تھی اس میں یہ حدیث نکلی :
|
لعن رسول اﷲ زائرات القبوروالمتخذین علیھا المساجد والسرّج[1]۔ رواہ الترمذی والنسائی۔ |
لعنت کی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے زائرات قبور پر اورجو پکڑیں قبروں پر مسجدیں ( یعنی قبروں کی طرف سجدہ کریں) اور قبروں پر چراغ روشن کریں۔ اسے ترمذی اور نسائی نے روایت کیا۔ |
اس کے بعد میں نے حضرت شاہ رفیع الدین صاحب محدث دہلوی برادر شاہ عبدالعزیز صاحب ختم المحدثین کے فتوے مطبوعہ مطبع مجتبائی ص ۱۴ کو دیکھا اس میں لکھاہے:
|
پس امداد بدعاء وختم واطعام بدعتے مباح است (یعنی درعرس سالانہ بزرگان دین اگر صلحائے وقت جمع شدہ قرآن شریف خوانند وخیرات کردہ ثواب رسانند مضائقہ ندارد، ایں رابدعت مباح بایدگفت) وجہ قبح ندارد ۔ اما ارتکاب محرمات از روشن کردن چراغ ہا وملبوس ساختن قبور وسرودہا نواختن معازف بدعات شنیعہ اند حضور چنیں مجالس ممنوع اگر مقدور باشد محلِ حدیث من رأی منکم منکرًا فلیغیرہ بیدہ وان لم یستطع فبلسانہ وان لم یستطع فبقلبہ وذٰلك اضعف الایمان [2]عمل باید کرد از مقام زجر پراگندہ کردن اسباب بدعت کافی [3]۔ |
دعا، ختم قرآن اور کھانا کھلانے کے ذریعے مدد کرنا ایك جائز بدعت ہے( یعنی بزرگان دین کے سالانہ عرس میں اگر اس زمانے کے نیك لوگ جمع ہو کر قرآن شریف پڑھیں اور خیرات کرکے ثواب پہنچائیں تو کوئی مضائقہ نہیں اسے بدعت مباحہ کہا جاسکتا ہے) قبیح ہونے کی کوئی وجہ نہیں،لیکن حرام باتوں کا ارتکاب جیسے چراغ روشن کرنا، قبروں کو ملبوس کرنا، گانے ، باجے بجانا شنیع بدعتیں ہیں، ایسی مجلسوں میں شرکت منع ہے اگر قدرت ہو تو حدیث پاک"جو تم میں کوئی برائی دیکھے تو اپنے ہاتھ سے روك دے، یہ نہ ہوسکے تو زبان سے، یہ بھی نہ ہوسکے تودل سے برا جانے اور یہ سب سے کمزور ایمان ہے"پر عمل کرنا چاہئے، زجر کی جگہ اسباب بدعت کو منتشر کردینا کافی ہے (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع