30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بنانا کیسا اور اس کی نسبت کیا حکم ہے؟
(۶) مسلمانوں پر قبرستان کی حرمت کس حدتك واجب ہے؟
الجواب:
( ۱ و۲) عامہ قبرستان وقف ہوتے ہیں، اور وقف کی بیع حرام و رہن حرام ہے، اور جو خاص قبرستان کسی کی ملك ہوجس میں اس نے مردے دفن کیے ہوں مگر اس کام کے لیے وقف نہ کیا ہو ،کہ وہ بھی مواضع قبور کو نہ بیچ سکتا ہے نہ رہن کرسکتا ہے کہ اس میں توہین امواتِ مسلمین ہے، اور ان کی توہین حرام ہے۔
(۳) حرام ہے مگر یہ کہ کسی کی مملوك زمین میں بےاس کی اجازت کے کسی نے مردہ دفن کردیا ہواور اس نے اسے جائز نہ رکھا تو اسے اس کے نکلوادینے اور اپنی زمین خالی کر لینے اور کھیتی وعمارت ہر شے کا اختیار ہے۔
(۴) جو شخص ایسے جرم شدید کامرتکب ہو ہر مسلمان پرواجب ہے کہ بقدر قدرت اسے روکے جو اس میں پہلو تہی کرے گا اسے فاسق کی طرح عذاب نار ہوگا۔
|
قال تعالٰی کَانُوۡا لَا یَتَنَاہَوْنَ عَنۡ مُّنۡکَرٍ فَعَلُوۡہُ ؕ لَبِئْسَ مَا کَانُوۡا یَفْعَلُوۡنَ ﴿۷۹﴾۔[1] |
اﷲ تعالٰی فرماتا ہے: وہ ایك دوسرے کو برے کام سے روکتے نہ تھے، وہ سب کیا ہی برا کام کرتے تھے (ت) |
(۵) حرام ، حرام، سخت حرام ہے اور اس کا مرتکب مستحقِ عذاب نار وغضب جبّار ہے۔
(۶) قبور مسلمین پر چلنا جائز نہیں، بیٹھنا جائز نہیں، ان پر پاؤں رکھنا جائز نہیں، یہاں تك کہ ائمہ نے تصریح فرمائی ہے کہ قبرستان میں جو نیا راستہ پیدا ہو اس میں چلنا حرام ہے۔ اور جن کے اقربا ایسی جگہ دفن ہوں کہ ان کے گرد اور قبریں ہوگئیں اور اسے ان قبور تك اور قبروں پر پاؤ ں رکھے بغیر جانا ممکن نہ ہو، دور ہی سے فاتحہ پڑھے اور پاس نہ جائے زیادہ تفصیل ہمارے رسالہ اھلاك الوھابیین میں ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۴۶: از سکندر پور ضلع بلیا پاٹی گلی مسئولہ محمد حسین وعطا حسین ۲۲ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ زینب نے اپنے نواسہ بکر کو اپنی زمینداری ہبہ کی او رلکھ دیا کہ توابع لواحق اس کے جو کچھ ہے ہبہ کردیا۔ بکر نے عمرو کے ہاتھ اس زمینداری کو مع جملہ حقوق توابع لواحق بیع کردیا اور اس کے اندر قبرگاہ واہبہ کا بھی ہے توا س کے اندر عمرو مشتری کی قبر بناناجائز ہے یا نہیں یا اس قبر گاہ پر متصرف ہونا مشتری عمرو کا درختان انبہ وغیرہ کا پھل کھانا یالکڑی لینا جائز ہے یا نہیں؟ اور وہ قبر گاہ بغیر دیوار بے مرمت اور خراب ہو تو عمرو بنواسکتا ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع