30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی غایۃ القبح ان یقبر فیہ الموتٰی سنۃ و یزرع سنۃ [1]۔ |
یہ بات انتہائی قبیح ہے کہ ایك سال ا س میں مردے دفن کیے جائیں اور ایك سال کھیتی باڑی کی جائے ۔(ت) |
بات یہ ہے کہ وہابیہ کی نگاہ میں قبور مسلمین بلکہ خاص مزارات اولیائے کرام علیہم الرضوان ہی کی کچھ قدر نہیں، بلکہ حتی الوسع ان کی توہین چاہتے ہیں اور جس حیلے سے قابوُ چلے انھیں نیست ونابود وپامال کرانے کی فکر میں رہتے ہیں ان کے نزدیك انسان مرا اور پتھر ہوا، جیسے وہ خود اپنی حیات میں ہیں کہ مالا یسمع ولایبصر ولایغنی عنك شیئًا ( جو سنے نہ دیکھے او رنہ تیرے کچھ کام آئے، ت)حالانکہ شرع مطہر میں مزاراتِ اولیاء تو مزارات عالیہ عام قبور مسلمین مستحقِ تکریم وممتنع التوہین ، یہاں تك کہ علماء فرماتے ہیں :"قبر پر پاؤں رکھناگناہ ہے کہ سقفِ قبر بھی حق میّت ہے۔"قنیہ میں امام علائے ترجمانی سے ہے:
|
یاثم بوطء القبور لان سقف القبر حق المیّت [2]۔ |
قبر پر پاؤں رکھنا گناہ ہے کہ سقفِ قبربھی حق میّت ہے ۔ |
حتی کہ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم جن کی نعلین پاك کی خاك اگر مسلمان کی قبر پر پڑ جائے تو تمام قبر جنت کے مشک، عنبر سے مہك اُٹھے، اگر مسلمان کے سینے او رمنہ اور سر اور آنکھوں پر اپنا قدم اکرم رکھیں اس کی لذت و نعمت وراحت وبرکت میں ابدالآ باد تك سرشار وسرفراز رہے۔ وہ فرماتے ہیں:
|
لان امشی علٰی جمرۃ اوسیف احبُّ الیّ من ان امشی علٰی قبر مسلم [3]۔ رواہ ابن ماجۃ بسند جید عن عقبۃ بن عامر رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ |
بے شك چنگاری یا تلوار پرچلنا مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں کسی مسلمان کی قبر پر چلوں، اسے ابن ماجہ نے سند جید کے ساتھ عقبہ بن عامر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ |
او ر وہابیہ کو اس کی فکر ہے کہ کسی طرح مسلمانوں کو قبروں پر مکان بنیں، لوگ چلیں پھریں، قضائے حاجت کریں، بھنگی اپنے ٹوکرے لے چلیں ؎
اگر ایں ست پسند تونصیب بادا
( اگر یہی تجھے پسند ہے تو تجھے تصیب ہو ۔ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع