30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تو ظاہر ہوا کہ اس روایت خارجہ عن المذہب کا دامن پکڑنا بھی محض سوءَ فہم وبندگی وہم تھا وباﷲ العصمۃ۔
عاشرًا لطف یہ ہے کہ اس روایت خارجہ میں شرط استغناء عن الدفن لگائی گئی ہے۔ آیا اس سے یہ مراد کہ اس کے سوادوسری جگہ دفن ہوسکتاہو، جب تو یہ شرط محض لغو وعبث ہے، وہ کون سا گورستان ہے جس کی طرف احتیاج دفن بمعنی لولاہ لامتنع (ا گر وہ نہ ہو تو منع ہے ۔ت) ہے ۔ نہ ہر گز تعطل و ویرانی ،اوقاف میں صرف اس قدرملحوظ ہوتا ہے کہ یہاں مطمح النظر دو امر رہتے ہیں، ایك عدم محتاجین یعنی وہاں آبادی نہ رہی، لوگ متفرق ہوگئے، اب حاجت کسے ہو، جیسے جواب دوم میں عٰلمگیری ومحیط سے دربارہ مسجد وحوض گزر ا کہ خرب ولایحتاج الیہ لتفرق الناس ( جو ویران ہوجائے لوگوں کے وہاں سے چلے جانے کی وجہ سے اس کی احتیاجی نہ رہے ۔ت) دوسرے عدم حاجت بوجہ عدمِ صلوح، یعنی وہ شے کسی مانع وقصور ونقص کے سبب اب اس کام کی نہ رہی، مثلًا زمین پر پانی نے غلبہ کیا کہ دفن کی گنجائش نہ رہی، فتاوٰی کبرٰی وجامع المضمرات وہندیہ واسعاف وغیرہا میں ہے:
|
امرأۃ جعلت قطعۃ ارض لھا مقبرۃ واخرجتھا من یدھا ودفنت فیھا ابنھا وتلك القطعۃ لاتصلح المقبرۃ لغلبۃ الماء عندھا فیصیبھا فساد فارادت بیعھا، ان کانت الارض بحال لایرغب الناس عن دفن الموتٰی لقلۃ الفساد لیس لھا البیع وان کانت یرغب الناس عن دفن الموتٰی لکثرۃ الفساد فلھا البیع [1]۔ |
ایك عورت نے اپنی زمین کے ایك ٹکڑے کو قبرستان بنادیا اور اسے اپنے ہاتھ سے نکالا او راس میں اس اپنے بیٹے کو دفن کردیامگر یہ ٹکڑا غلبہ پانی کی وجہ سے قبرستان کے لیے درست نہ رہا تو اس نے اسے بیچنے کا ارادہ کیا، اگر زمین ایسی ہے کہ لوگ اس میں اپنے مردوں کو دفن کرنے سے پہلو تہی نہیں کرتے ہیں کیونکہ فساد زائد نہ تھا تو وہ عورت اس ٹکڑے کو بیچ نہیں سکتی او راگر لوگ اس میں زیادہ خرابی کی وجہ سے مردے دفن نہیں کرتے ہیں تو وہ عورت بیچ سکتی ہے۔ |
پر ظاہر کہ صور ت مستفسرہ میں ہرگز نہ عدم محتاجین ہے نہ عدم صلوح، پھر شرط استغناء کب متحقق ہوئی اور تغیر وقف کی اجازت کس گھر سے ملی، تو روشن ہواکہ مجیب سوم کا اس روایت خارجہ سے تمسك محض تشبث الغریق بالحشیش( ڈوبتے کوتنکے کا سہارا ۔ت) تھا۔ ولاحول ولا قوۃ الاّباﷲ العلی العظیم۔ ھکذا ینبغی التحقیق واﷲ ولی بالتوفیق۔
تنبیہ:یہ مجیب سوم پر تلك عشرۃ کاملۃ ہیں اور ان کارد ان کے سب اتباع واذناب کے رو سے مغنی ؎
وکل الصید فی جوف الفراء
(یہ عرب کا قول بطور مثل اس وقت بولا جاتا ہے جب بہت سی حاجتوں میں سے بڑی حاجت پوری ہوجائے)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع