دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 9 | فتاوی رضویہ ۹

book_icon
فتاوی رضویہ ۹

گریز فرمایا وہی تینوں یہاں بھی آپ پر عائد بلکہ مع شیئ زائد:

اوّل تو وجہ سابع میں دیکھ چکے کہ خلاف مفتٰی بہ ہونا درکنار وہ دوسرے مذہب کا کوئی قول ضعیف بھی نہیں۔

اور ثانی یو ں کہ کلام ابن القاسم میں عفت ودرست ہے۔ عفاء دروس نیست ونابود وناپید وبے نشان ہوناہے، یہ اس مقبرے پرکہا ں صادق کہ سائل کہتا ہے ، پرانی شکستہ قبریں پائی جاتی ہیں تو ابھی نیست ونابود و ناپید نہ ہوا اور اس روایت خارجہ نے بھی آپ کو کام نہ دیا۔او رثالث یوں کہ جب ان کی رائے میں مجرد وقفیت موجب اتحاد معنٰی وجواز اقامت بجائے یك دگر ہے تو جیسے مقبرے کو مسجد کرنا روا، یوں ہی مسجد کومقبرہ ۔ یوں مسجد کو سراء اور سرائے کو بیت الخلا، فان الکل وقف من اوقاف المسلمین لا یجوز تملیکہ لاحد فمعنی الکل علی ھذا واحد( کیونکہ یہ سب مسلمانوں کے اوقاف میں سے وقف کی صورتیں ہیں توکسی کو اس کا مالك بناناجائز نہیں اس اعتبار سے سب کامعنی ایك ہے ) پھر مفرکدھر!تاسعًا ذرابراہ مہربانی تھوڑی دیر کو ہوش میں آکر فرمائے کہ ابن القاسم نے کہا مقبرے کو بعد بے نشانی مسجد کردینا روا، او رابولقاسم محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: مقابر پر مسجد بنانا حرام، آپ کے نزدیك یہ دونوں حکم حالت واحد پر وارد جب تو آپ کاایمان ہے کہ ابن القاسم کی بات کو حق جانیں اور ابوالقاسم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد نہ مانیں، اور اگرحالت مختلف ہے تو پہلے وہ فرق معین کیجئے جس پر ان دونوں احکام کا انقسام ہوگا، کیا فقط نو کہن کا تفرقہ ہے کہ نئی قبروں پر مسجدبنانا حرام، اور جہاں ذرا پرانی پڑیں، اب ان پر نمازا جائز ہوگی یا فقط اوپر کا نشان مٹ جا ناچاہئے یا یہ ضرور ہے کہ لاشوں کے تمام اجزا، ساری ہڈیاں بالکل خاك ہوجائیں، مردے بجمیع اجزاء تراب خالص کی طرف استحالہ کریں، اس کے بعد روا ہے۔

اوّل توبداہۃً بالکل ، اور شاید بعلّت وہابیت آپ کے یہاں تو شرك ہو اور ثانی بھی اسی کی مثل ہو کہ نشان بالانہ قبر ہے نہ قبر کے لیے رکن شرط، تو اس کا عدم و وجود یکساں، معہذا اس مقبرے میں یہ صورت بھی ہنوز متحقق نہ ہوئی کہ نشان قبر موجود ہیں اور آپ کا حکم بے تخصیص ثلث خالی صاف مطلق ہے کہ"مدرسہ وقفی بنانا گورستان میں درست ہے"اور آپ کے مقلد نے اس اطلاق کی صریح تصریح کردی ہے کہ"بناء مدرسہ اس جگہ میں خصوصًا حصہ خالی میں درست ہے۔"اس خصوص نے عموم کو واضح کردیا، لاجرم ثالث لیجئے گا، اب یہ آپ پر لازم تھا کہ دلیل شرعی سے اس مدت کی تعیین کرتے، جس میں مردے کی ہڈی پسلی کا اصلًا نام ونشان نہیں رہتا۔ سب سے پچھلی جومیّت دفن ہوئی اسے اتنی مدت گزر چکی، ان دو مرحلوں کو بغیر طے کئے حکم جواز لگا دینا محض جہل تھا، اتنا یاد رکھئے کہ مجرد شك یہاں کام نہ دے گاکہ"الیقین لا یزول بالشک"(شك سے یقین زائل نہیں ہوتا ۔) عقل ونقل کاقاعدہ اجماعیہ ہے وجود مانع یعنی بعض اجزائے اموات پر یقین نہ ہو، حکمِ حرمت وممانعت ہی رہے گا اور آپ کے لیت ولعل سے کام نہ چلے گا،


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن