30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ذکر ما یستنبط منہ من الاحکام سے آپ کی منقولہ حکایت تك اسی قسم کی عبارت ہے عالم تو متعدد وجہ سے پہچانے گا کہ یہ کلام حنفیہ نہیں۔ آپ نے اتنا ہی دیکھا ہوتا کہ اس عبارت میں ہے: الٰی جواز نبش قبورھم للمال ذھب الکوفیون والشافعی واشھب بھذا الحدیث [1]( کوفہ والے، شافعی اور اشہب اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے اس طرف گئے ہیں کہ حصو ل مال کیلئے انکی قبروں کو اکھاڑنا جائز) حنفیہ کا محاورہ نہیں کہ اپنے ائمہ کا مذہب یوُں بیان کریں کہ کوفے والے ادھر گئے ہیں، قائل حنفی ہوتاتو"ذھب ائمتنا یا اصحابنا یا علماؤنا وامثال ذلک"لکھتا ۔یہ ابن القاسم واشہب عــــہ دونوں حضرات مالکی مذہب عالم ہیں۔ خود امام ہمام کے شاگرد ، اور ان کے مذہب میں اہل روایت ودرایت جیسے ہمارے ہاں زفر و حسن بن زیاد رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہم، آپ کی مقدس بزرگی کہ مذہب حنفی کے صریح خلاف ایك مالکی عالم کی رائے پر فتو ی دیتے ،اور اپنے زعم میں اسے مذہب حنفی کی روایت سمجھ رہے ہیں حالانکہ ہمارے ائمہ تو ہمارے ائمہ وہ اس مذہب کے بھی امام مجتہد سید نا امام مالك رضی اﷲ تعالٰی عنہ کہ یہ ابن القاسم ہمارے علماء سے نہیں ، مگر ہاں جب نافہمی کی ٹھہری تو آپ کو کیا لگتا ہے کہ اس ذکر اصحابنا کو بھی قال ابن القاسم کے تحت میں داخل اور انھیں کے مقولے میں شامل مانتے۔ گنگوہی صاحب کی تین چالاکیاں اوران کا الٹا پڑنا
ثامنًا مجیب صاحب نے ناحق اس حکایت غیر مذہب پر قناعت کی کہ فقط بیچارے مردہ مسلمانوں کی قبریں ، طلبہ اور مدرسہ کے بھنگی بہشتی سے پامال کرانے کی گنجائش ملی۔ اس ذکر اصحابناکو کیوں نہ لیا کہ مسجدوں میں چلانے، گھوڑے یا گدھے باندھنے کی راہ چلتی۔
|
بل ھو اشنع واخنع وھو اتخاذ موضع المسجد حشاو کنیعا لقولہ وذکراصحابنا ان المسجد اذاخرب ودثر ولم یبق حولہ جماعۃ، والمقبرۃ اذا عفت ودثرت تعود ملکا لاربابھا،"قال"فاذا عادت ملکا یجوز ان یبنی موضع المسجد دارًا وموضع |
بلکہ یہ زیادہ برا ہے کہ مسجدکو اصطبل یاباڑہ بنالیا جائے کیونکہ انھوں نے کہا : ہمارے اصحاب نے ذکر کیا کہ مسجد جب ویران ہوجائے او راس کے گرد کوئی جماعت نہ رہے او رقبرستان جب مٹ جائے تو ان پر ان کے سابق مالك کی ملك لوٹ آتی ہے، انھوں نے فرمایا کہ جب یہ چیزیں مِلك میں آگئیں تو مسجد کی جگہ کو گھر اور قبرستان کی جگہ |
عــــہ: دونوں حضرات کے مزار فائض الانوار قرافہ میں یکجا ہیں، علماء فرماتے ہیں ان دونوں مزار کے بیچ میں دعا قبو ل ہوتی ہے ۱۲ منہ حفظ ربہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع