30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لایباح لاھل المحلۃ الانتفاع بھا وان کان فیھا حشیش یحش منھا ویخرج الحشیش الی الدّواب، ولاترسل الدواب فیھا [1]۔ |
نہ رہے ہوں تو اس سے اہل محلہ نفع حاصل کرسکتے ہیں ، اگر اس میں گھاس ہو تو وہ بھی کاٹی جاسکتی ہے، کاٹ کر باہر لائی جائے مگر جانور قبرستان میں نہ چھوڑے جائیں۔قطعًا مفید مدّعا تھیں۔ |
اور مجیب صاحب سوم کا یہ زعم کہ:"مجیب صاحب نے جو روایت نقل کی ہے اس سے بھی مدعا ثابت نہیں ہوتا، محض سوءِ فہم اور جہل مبین۔"
( گنگوہی صاحب کی سخت بے علمی، نصوص مذہب کو چھوڑ کر ایك مالکی عالم سے استناد)
گنگوہی صاحب پر گرفت
سابعًا مجیب سوم کو جب فقہ میں کوئی راہ نہ ملی ، ناچارمتون وشروح وفتاوائے مذہب سب بالائے طاق رکھ کر نصوص اصول وفروع فقہ حنفی سب سے آنکھ بند کرکے شرح صحیح بخاری سے ایك روایت خارج عن المذہب پر قناعت کی کہ ابن القاسم نے کہا کہ میری رائے میں جب مقبرے کے آثار مٹ جائیں او راس کی حاجت نہ رہے تووہا ں مسجد بنا لینا جائز ہے۔عربی لفظوں کاترجمہ دیکھ لیا، اب یہ ادراك کسے کہ یہ ابن القاسم کون ہیں؟ کس مذہب کے عالم ہیں؟ ان کا قول مذہب حنفی میں کہاں تك سنا جاسکتا ہے؟ او ر وہ بھی خاص ان کی رائے، اور وہ بھی اصول و فروعِ مذہب کے صریح خلاف، مجیب صاحب علامہ عینی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ شرح جامع صحیح میں صرف اقوال مذہب پر اقتصار نہیں کرتے، بلکہ ائمہ اربعہ او ران سے بھی گزر کربعض دیگر سابق ولاحق بلکہ بعض بد مذہبوں مثلًا داؤد ظاہری وابن حزم تك کے اقوال نقل کر جاتے ہیں، بلکہ بارہا این وآن ہی کے قول پر قناعت فرماتے ہیں اور ائمہ مذہب کا مذہب بیان میں نہیں لاتے، جاہل کہ تراجم علماء سے آگاہ نہیں آپ کی طرح دھوکا کھاجاتا ہے اور خادم علم بحمد اﷲ تعالٰی فرقِ مراتب وتفرقہ مذاہب کی خبر رکھتا ہے۔ علامہ عینی یہاں کسی کتاب فقہ کی تحریر میں نہیں یہ اسطرادی بالائی فوائد ہیں جن سے اقاویل ناس پر اطلاع مقصود اور مذہب تو اصلًا وفرعًا کتبِ مذہب میں مضبوط ہوچکا ۔ ان کی ان نقول کا اکثر مادہ تصانیف ابن المنذ رو ابن بطال وغیرہما شافعیہ وغیرہم ہیں ان کی عادت ہے کہ محلِ نقل میں سطریں کی سطریں بلکہ کہیں صفحے بلا غروبے تغیر لفظ نقل فرماتے ہیں جس پرا ن کے امام عصری امام ابن حجر عسقلانی رحمہ اﷲ تعالٰی نے الدرر الکا منہ میں تنبیہ کی،یہاں بھی صدر کلام
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع