30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
زمین وقف میں کوئی عمارت دوسری غرض کے لیے وقف نہیں ہوسکتی
(اور گنگوہی صاحب کی نادانی)
خامسًا تنہا عمارت وقف ہوگی یا تنہا زمین یا دونوں، ثانی بدیہی البطلان ہے لان الوقف لایوقف ( کیونکہ وقف کا دوبارہ وقف جائز نہیں ۔ت) یوں ہی ثالث لانہ علیہ یتوقف ( کیونکہ وہ وقف پر موقوف ہے ۔ت) اول کا جواز ارض غیر محتکرہ میں اس صورت میں ہے کہ یہ عمارت اسی کا م پر وقف ہو جس پر اصل زمین کا وقف ہے ھوالصحیح بل ھو التحقیق وبہ التوفیق ( یہ صحیح ہے بلکہ یہی تحقیق ہے اﷲ تعالٰی کی توفیق ہے ۔ت) تو زمین مقبرہ اور دیواریں مدرسہ محض وسوسہ۔فتاوٰی علامہ خیرالدین رملی میں ہے :
|
سئل فی کرم مشتمل علٰی عنب وتین وارضہ وقف سیدنا الخلیل علیہ وعلٰی نبیّنا وسائر الانبیاء افضل الصلٰوۃ واتم السلام من الملك الجلیل ادّعٰی رجل بانّہ وقف جدہ ھل تسمع دعواہ، اجاب لاتسمع ولاتصح، اذاالکرم اسم للارض والشجر وان ارید بہ الشجر فوقف الشجر علٰی جہتہ غیر جہۃ الارض مختلف فیہ وقد قال صاحب الذخیرۃ وقف البناء من غیر وقف الارض لم یجزھوالصحیح وان ارید کل من الارض والشجر فبطلانہ بدیھی التصور وان ارید الارض فبدیھیۃ البطلان اولٰی[1] اھ ملتقطا۔ |
اب باغ کے بارے میں دریافت کیا گیا جس میں انگور اور انجیر ہیں اور اس کی زمین جس کو حضرت ابراہیم علٰی نبینا وسائرالانبیاء افضل الصلوٰۃ واتم السلام من الملك الجلیل نے وقف کیا تھا، ایسے باغ پر ایك شخص نے دعوٰی کردیا کہ یہ اس کے دادا نے وقف کیا تھا، کیا اس کا دعوٰی سُنا جائے گا؟ جواب دیا، نہیں ، کیونکہ باغ زمین اور درختوں کے مجموعے کانام ہے، اوراگر اس سے مراد درخت ہوں تو درختوں کا زمین کی جہت کے بغیر وقف کرنا مختلف فیہ ہے، صاحبِ ذخیرہ نے کہاہے کہ عمارت کا وقف کرنا زمین کے بغیر جائز نہیں، یہی صحیح ہے۔ اور اگر زمین اور درخت سب مراد ہوں تو اس کا باطل ہونا ظاہر ہے اور اگر صرف زمین مراد ہو تواس کا باطل ہونا اور بھی ظاہر ہے اھ ملتقطا۔ |
اسی میں اس کے متصل ہے:
|
کیف یصح للواقف وقفہا علٰی نفسہ و |
واقف اس کو اپنے اوپر کیونکر وقف کرسکتا ہے حالانکہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع