30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
محل درس زمین ہے یا دیواروں پر بیٹھ کر درس ہوگا؟ او ریوں بھی ہو تا ہم قرار استقرار کو انتہا علی الارض سے کیا چارہ،اور یہ زمین ایك بار ایك جہت کے لیے وقف ہوچکی ہے دوبارہ وقفیت کیو نکر معقول کہ واقف کا وقتِ وقف مالك موقوف ہونا شرط وقف ہے ہمارے مذہب میں بالاتفاق اہل وقوف اس پر صحت وقف موقوف اور وقفِ بعد تمامی کسی کی ملك نہیں، تو پھر اصل واقف بھی اگردوبارہ اسے وقف کرنا چاہے محض باطل ہوگا، نہ کہ زید وعمرو بلکہ حکم عام ہے، خواہ وقف دوبارہ جہت اُخرٰی پر ہو یا اسی جہتِ اولٰی پر کہ علی الاول تحویل باطل ہے اور علی الثانی تحصیل حاصل والکل باطل۔ بحرالرائق وعٰلمگیریہ وغیرہمامیں ہے :
|
اماشرائطہ فمنھا العقل والبلوغ ومنھا ان یکون قربۃ ومنھا الملك وقت الوقف ویتفرع علٰی اشتراط الملك انہ لایجوز وقف الاقطاعات ولا وقف ارض الحوز للامام [1] ملتقطا۔ |
بہر حال وقف کی شرائط تو ان میں سے بلوغ او رعقل ہے او ران میں سے اس کا عبادت کیلئے ہونا ہے اور وقتِ وقف ملك کاہونا ہے ملك کی شرط پر یہ بھی متفرع ہے کہ جاگیر کاوقف جائزنہیں، او امام کی گھیری ہوئی زمین کا وقف بھی جائز نہیں۔ ،ملتقطًا |
اسعاف میں ہے:
|
اتفق ابویوسف ومحمد رحمھما اﷲ تعالٰی ان الوقف یتوقف جوازہ علی شروط بعضھا فی المتصرف کالملك فان الولایۃ علی المحل شرط الجواز والولایۃ تستفاد بالملك اوھی نفس الملك [2]۔ |
ابو یوسف اور امام محمد رحمہما اﷲ تعالٰی نے اتفاق کیا ہے کہ وقف کاجواز بعض شرائط پر موقوف ہے، کچھ تواس میں سے متصرف ہیں جیسے ملك ، کیونکہ ولایت"محل"شرط جوازہے اور ولایت یا تو ملك سے مستفاد ہے یا وہ خود ملك ہے۔ |
اسی میں ہے:
|
لو وقف ارضااقطعہ ایّاھا السلطان فان کانت ملکالہ او مواتا صح وان کانت من بیت المال لایصحّ [3] ۔ |
اگر کوئی شخص نے بادشاہ کی دی ہوئی جاگیر وقف کردی تو اگر وہ اس کی ملك ہے یا وہ مردہ زمین ہے تو صحیح ہے اور اگر بیت المال سے ہے تو صحیح نہیں۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع