30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اب اگر شہرت بھی منقول نہ ہو تو ہزاروں وقف سوا اس کے کہ محض بے ثبوت وباطل قرار پائیں اور کیا نتیجہ ہے
وقف میں تبدیلی حرام ہے اور گنگوہی صاحب کی سفاہت
ثالثًا مقبرے کے لیے وقف تسلیم کر کے اس میں مدرسہ وغیرہ دوسرے مکان وقفی بنانے کو درست بتانا ظلم واضح وجہل فاضح ہے کہ اس میں صراحۃً تغیر وقف ہے او ر وہ حرام ہے حتی کہ متولّی بھی وقف پر ولایت رکھتا ہے نہ کہ اجنبی حتی کہ علماء نے تغیر ہیأت کی بھی بے اذن واقف اجازت نہ دی، نہ کہ تغیر اصل وقف، عقود الدریہّ میں ہے:
|
لا یجوز للناظر تغیر صیغۃ الواقف کما افتی بہ الخیر الرملی والحانوتی وغیرھما [1]۔ |
وقف کے نگہبان کے لیے واقف کے صیغے کی تبدیلی جائزنہیں، جیسا کہ خیر رملی اور حانوتی وغیرہما نے فتوٰی دیا ہے۔ |
سراج وہاج وہندیہ میں ہے:
|
لایجوز تغییر الوقف عن ھیأتہ فلا یجعل الداربستانا ولا الخان حمّاما ولا الرباط دکّانًا الاّ اذاجعل الواقف الی الناظر ماٰیری فیہ مصلحۃ الوقف [2] ۔ |
وقف کو اس کی ہیئت سے تبدیل کرنا جائز نہیں، لہذا گھر کو باغ اور سرائے کو حمام او ر رباط کو دکان بنانا جائز نہیں، ہاں واقف نے اگر نگرانِ وقف کو اجازت دے رکھی ہے کہ وہ ہر وہ کام کرسکتا ہے جس میں وقف کی مصلحت ہو تو ٹھیك ہے۔ |
فتح القدیر و ردالمحتار وشرح الاشباہ للعلامۃ البیری میں ہے :
|
الواجب ابقاء الوقف علٰی ماکان علیہ دون زیادۃ اخری [3] ۔ |
وقف کو اپنی اصل حالت پر باقی رکھنا واجب ہے بغیر اس کے کہ اس پر کوئی دوسری زیادتی کی جائے ۔(ت) |
وقف کرنے کے لیے مالک ہونا شرط ہے،شیئ ایک بار وقف ہوکر دوبارہ وقف نہیں ہوسکتی
( اور گنگوہی صاحب کی ناواقفی )
رابعًا:مدرسہ یا کتب خانہ یاکوئی مکان کیا خالی دیواروں کا نام ہے۔ ہر عاقل ادنٰی عقل والا بھی جانتاہے کہ زمین ضرور اس میں داخل ، تنہا دیواروں کوبناء وعملہ کہتے ہیں، نہ بیت وخانہ، مدرسہ جائے درس،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع