30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یا واقفیت، اول صحیح ہے مگر مہمل وندائے بے محل، سوال اس صورت میں خاصہ سے ہے جہاں شہرت موجود ہے اس پر حکم کے لیے ہر جگہ شہرت کیا ضرور، یوں ہی دوم بھی اگر مقصود سلب واقفیت بحال انتقائے شہرت ہو، اور ان ہی دونوں صورتوں میں یہ قول کہ"اکثر جگہ دیکھا گیا کہ گورستان وقف نہیں ہوتا"رُوبصحت رکھتا ہے اگر چہ کثیر واکثر میں فرق نہ کرنا ضیق نطاق بیان اور اگر نفی واقفیت شہرت مراد تو محض مردود و ظاہر انفساد، اور اب وہ شہادت مشاہدہ اکثر بلاد صراحتًا حکایت بے محکی عنہ ہے متون وشروح وفتاوٰئے مذہب میں تصریحات جلیہ ہیں کہ شہرت مثبت واقفیت ومسوغ شہادت ہے۔
کلام مجیب دوم سلمہ میں بھی اس کی بعض نقول منقول، پھر باوصف تسلیم دلیل شرعی نفی مدلول جہل قطعی، یہاں شہادت شہرت کونہ ماننا نہ اسی مقبرے بلکہ عامہ اوقافِ قدیمہ یکسر مٹادینا ہے، طول عہد کے بعد شہود معاینہ کہاں، اور مجرد خط حجت نہیں، فتاوٰی خیریہ میں ہے:
|
لایعمل بمجرد الدفتر ولامجرد الحجۃ لما صرح بہ علماءُ نا من عدم الاعتماد علی الخط وعدم العمل بہ کمکتوب الوقف الذی علیہ خطوط القضاۃ الماضین وانما العمل فی ذلك بالبینۃ الشرعیۃ [1]۔ |
صرف تحریر پر عمل نہ ہوگا اور نہ صرف دلیل پر کیونکہ ہمارے علماء نے تصریح کردی ہے کہ خط پر اعتماد نہیں اور اس پر عمل نہیں، جیسے وہ وقف نامہ جس پر گزشتہ قاضیوں کی تحریریں ہوں، اس معاملے میں شرعی گواہوں پر ہی عمل ہوگا۔ |
اسی میں ہے:
|
کتاب الوقف انما ھو کاغذ بہ خط وھولا یعتمد علیہ ولایعمل بہ، کما صرّح بہ کثیر من علمائنا ، والعبرۃ فی ذالك للبیّنۃ الشرعیۃ وفی الوقف یسوغ للشاھدان یشھد بالسماع ویطلق، ولایضرّ فی شھادتہ قول بعد شہادتہ لم اعائن الوقف ولکن اشتھر عندی او اخبرنی بہ من اثق بہ [2]۔ |
وقف کی تحریر تو ایك کاغذ ہے جس پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی عمل کیا جاسکتا ہے جیسا کہ ہمارے بہت سے علماء نے تصریح کی ہے، اعتبار اس معاملہ میں شرعی گواہوں کا ہے او ر وقف میں گواہ کے لیے جائز ہے کہ سُن کر گواہی دے اور اطلاق رکھے، او راس کی شہادت میں ادائے شہادت کے بعد یہ کہنا کہ میں نے وقف کا معائنہ نہیں کیا، لیکن میرے نزدیك مشہور ایسا ہی ہے یا مجھے قابل اعتماد شخص نے خبر دی ہے کچھ مضر نہیں ۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع