30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
حکم المقبرۃ۔ کذافی المحیط [1]۔ |
فرمایا: نہیں ، وہ قبرستان کے حکم میں ہے جیسا کہ محیط میں ہے۔ |
نہ عدم جوازانتفاع بالمقبرہ امام زیلعی کی اس عبارت ہی کے خلاف ہے اس لیے کہ انھوں نے"جوا زمیّت"کے بوسیدہ او رخاك ہوجانے پر مرتب فرمایا ہے، اور یہاں عدمِ جواز اس وجہ سے نہیں بلکہ بہ سبب مقبرے کے وقف ہونے میں ہے۔ جیسا کہ مصحح نے عٰلمگیریہ مطبوعہ مصرمیں لکھاہے، عبارت منقولہ عٰلمگیریہ پر یہ عبارت لکھی ہے:
|
قولہ قال لاھذا لاینا فی ماقالہ الزیلعی، لان المانع ھنا کون المحل موقوفا علی الدفن فلا یجوز استعمالہ فی غیرہٖ فلیتامل ولیحرر اھ مصححہ [2] ۔ سئل شمس الائمۃ الحلوانی عن مسجد اوحوضٍ خرب لایحتاج الیہ لتفرق الناس ھل للقاضی ان یصرف اوقافہ الٰی مسجدٍ اٰخر اوحوض او اٰخر۔ قال تعم، ولو لم یتفرق الناس ولکن استغنی الحوض عن العمارۃ و ھناك مسجد محتاج الی العمارۃ اوعلی العکس ھل یجوز للقاضی صرف وقف ما استغنی عن العمارۃ الٰی عمارۃٍ ماھو محتاج الی العمارۃ فقال لا، کذافی المحیط [3] |
ان کا قول"انھوں نے کہا نہیں"یہ زیلعی کے قول کے منافی نہیں کیونکہ یہاں مانع حمل کا دفن کے لیے موقوف ہونا ہے تواس کا استعمال غیر میں جائز نہیں ، غور کرنا چاہیے اور اسے محفوظ کرنا چاہئے اھ مصحح۔او رمسائل سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ غیر جنس کی طرف وقف جائز نہیں، عٰلمگیریہ جلد ثانی ص ۴۷۸ میں ہے ۔شمس الائمہ حلوانی سے مسجد یا حوض کے بارے میں دریافت کیا گیا جو ویران ہوں اور ان کی ضرورت نہ رہی ہو کیونکہ وہاں آبادی نہیں رہی، کیا قاضی ا س کے اوقاف کو دوسری مسجد یا دوسرے حوض میں صرف کرسکتا ہے؟ فرمایا: ہاں اوراگر لوگ وہیں رہتے ہوں مگر اس حوض کی ضرورت نہ رہی ہو اور وہاں مسجد عمارت کی محتاج ہو یا بالعکس تو کیا قاضی اس وقف کی آمدنی جس کی ضرورت نہ ہو دوسرے محتاج وقف کی تعمیر پر خرچ کرسکتا ہے؟ تو فرمایانہیں۔ محیط میں اسی طرح ہے۔ |
لہذا اس زمین میں جو دفن کے لیے وقف ہو مدرسہ وغیرہ بنانا جائز نہ ہوگا گو خالی ہی کیوں نہ ہو، او ردوسرے اس کا خالی ہونا فقط شہادت سے کہ ہماری عمر میں ہمارے علم میں کوئی میّت دفن نہ کی گئی، ثابت نہیں ہوسکتا بلکہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع