30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ھذا الجواب غیر صحیح لانہ مخالف لعبارۃ الفقھاء۔ |
یہ جواب نادرست ہے کیونکہ یہ فقہاء کی عبارات کے خلاف ہے (ت) |
محمد عبدالرزاق مدرس مدرسہ امداد العلوم کانپور
|
محمد عبدالرزاق |
خلاصہ جواب جناب مولوی احمد حسن صاحب
صورت مسئولہ میں اس مقام پر کتب خانہ ومدرسہ بنانا ناجائز ہے اس لیے کہ یہ جگہ جب مقبرے کے نام سے مشہور اور وقف ہے تو شرعًا یہ مقبرہ سمجھا جائے گا اور اس مقبرے کے لیے زمین وقف ہوگی اور اس کی شہرت اس کے ثبوت کے لیے دلیل کافی ہے۔درمختار میں ہے : تقبل فیہ الشھادۃ بالشُّھرۃ [1]الخ ملخصًا( اس میں شہرت کی بنا پر شہادت قبول کی جاتی ہے الخ ۔ت)اسی طرح ردالمحتار میں ہے عالمگیریہ میں ہے: الشھادۃ علی الوقف بالشھرۃ تجوز [2]ا لخ(وقت پر شہادت شہرت کی بناء پر جائز ہے الخ ۔ت) او راس کے مندر س ہوجانے سے دوسرا کوئی نفع لینادرست نہ ہوگا۔ قاضی خاں مطبوعہ مصر جلد ثالث ص ۳۱۴ پر ہے :
|
مقبرۃ قدیمۃ بمحلۃ لم یبق فیہا اٰثار المقبرۃ ھل یباح لاھل المحلۃ الانتفاع بھا قال ابو نصر رحمہ اﷲ تعالٰی لایباح [3]۔ |
ایك محلے میں پرانا قبرستان ہے جس کے نشانات باقی نہیں رہے، کیا اہل محلہ اس سے نفع حاصل کرسکتے ہیں، ابونصر رحمہ اﷲ تعالٰی نے کہا کہ مباح نہیں ہے ۔ |
عٰلمگیری میں جلد ثانی مطبوعہ مصر صفحہ ۴۷۰ و ۴۷۱ :
|
سئل القاضی الامام شمس الائمۃ محمود الاوز جندی عن المقبرۃ اذا اندرست و لم یبق فیھا اثر الموتٰی لاالعظم ولاغیرہ ھل یجوز زرعھا و استغلالہا قال لاولھا |
قاضی شمس الائمہ محمود اوزجندی سے ایسے مقام قبرستان کے بارے میں دریافت کیا گیا جس کے نشانات مٹ گئے ہوں اور اس میں ہڈیاں تك نہ رہی ہوں کیا اس میں کھیتی باڑی کرنا او ر اسے کرائے پر دینا جائز ہے، |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع