30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
و رحمۃ اﷲ وبرکاتہ۔ کانپوری مولوی احمد حسن صاحب سے ملاقات ہوئی ۔ کہتے تھے کہ بالفعل ایك اشد ضرورت ہے وہ کہ یہ جامع العلوم والوں نے ایك فتوٰی لکھا ، مستفتی میرے پاس لایا، میں نے ان کے خلاف جواب لکھا، جامع العلوم والوں نے اس کو دیوبند بھیجا،انھوں نے اپنے ہم مذہبوں کے جواب کی تصدیق کی۔ مستفتی پھر میرے پاس آیا کہ اب میں کس کے قول پر عمل کروں ، میں نے کہا کہ جو فیصلہ حکم کرے اس پر عمل کرو، حضرت مولٰنا سے بڑھ کر حکم کون ہے۔ لہذا اس استفتاء کو اپنے ہمراہ لیتے جاؤاور مولانا سے جواب لکھوالاؤ، اور فورًا روانہ کردو۔چونکہ میرا ارادہ حاضری کا تھا میں نے استفتاء لے لیا او راتفاق کہ میں حاضر نہ ہوسکا، اور یہ بہت ضروری ہے لہذا اس عریضے میں ہمراہ سید عبدالشکور صاحب حاضر خدمت کرتا ہوں اسی وقت فیصلہ لکھ دیجئے اور سید صاحب ہی کے ہمراہ واپس فرمائے کہ میں روانہ کردوں، مولوی احمد حسن صاحب انتظار میں ہوں گے،
نقل استفتاء
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ سطح زمین قبرستان کے نام سے مشہور ہے جس کی ایك طرف چندپرانی شکستہ قبریں پائی جاتی ہیں الخ، بعینہ سوال آمدہ ازکلکتہ امرتلالین واز کانپور بازار گنج، ۲۰ربیع الآخر ۱۳۲۱ ھ کے عنقریب فتاوٰی میں گزرا۔
جواب اہالی مدرسہ جامع العلوم
ایسے مقام پر کتب خانہ اور مدرسہ بنانا جائز ہے لعدم المانع( کہ مانع معدوم ہے ۔ت) اور اگر بوسیدہ ہڈی اتفاقی طور پر نکل آئے تو اس کو کہیں دفن کردے۔
|
وقال الزیلعی ولویلی المیّت وصار ترابًا جاز دفن غیرہ فی قبرہ و زرعہٖ والبناءُ علیہ [1] اھ شامیۃ ص ۵۹۹ واﷲ اعلم۔ |
امام زیلعی نے فرمایا اگر میّت بوسیدہ ہوکر مٹی ہوجائے تو اس کی قبر میں دوسرے کو دفن کرنا اور اس کی قبرپر کھیتی کرنا اور عمارت بنانا جائز ہے اھ شامیہ ص ۵۹۹ واﷲ اعلم (ت) |
الاحقر محمدرشید مدرس دوم مدرسہ جامع العلوم کانپور
|
محمد رشید دو عالم زفیض( ۱۳۱۳ھ) |
من اجاب فقد اصاب ( جو جواب دیاگیا درست ہے ۔ت) محمد عبداﷲ عفی عنہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع