30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس پر چند مسلمانان عالی ہمت نے اس تہائی خالی سطح زمین پر مدرسہ اور کتب خانہ بنانے کے لیے حاکم وقت سے درخواست کی تھی۔ تحقیق کرنے کے بعد کہ وہاں کوئی قبر نہیں ہے، حاکم وقت نے اجازت دے دی، ان حضرات نے مدرسہ وکتب خانہ بنانے کے لیے تمام سامان فراہم کیا ہے۔ اس صورت میں ایسے مقام پر مدرسہ کتب خانہ بنانا درست ہے یا نہیں؟ اور مدرسہ کی نیو( بنیاد) کھودتے وقت اگر احیانًا وہاں مردے کی بوسیدہ ہڈی نکلے تو اس کا کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا
الجواب:
وقف کی تبدیل جائز نہیں، جو چیز جس مقصد کے لیے وقف ہے اسے بدل کر دوسرے مقصد کے لئے کردینا روانہیں، جس طرح مسجد یا مدرسہ کو قبرستان نہیں کرسکتے یونہی قبرستان کو مسجد یا مدرسہ یا کتب خانہ کردینا حلال نہیں۔سراج وہاج پھر فتاوٰی ہندیہ میں ہے :
|
لایجوز تغیر الوقف عن ھیأتہ فلا یجعل بستانًا ولا الخان حمامًا ولا الر باط دکانًا الًااذا جعل الواقف الی الناظر مایری فیہ مصلحۃ الوقف[1] اھ قلت فاذالم یجز تبدیل الھیأۃ فکیف بتغییر اصل المقصود۔ |
وقف کواس کی ہیئت سے تبدیل کرنا جائز نہیں لہذا گھر کا باغ بنانا اور سرائے کا حمام بنانا او ر ر باط کا دکان بنانا جائز نہیں، ہاں جب واقف نے نگہبان پر معاملہ چھوڑ دیا ہو کہ وہ ہر وہ کام کرسکتا جس میں وقف کی مصلحت ہوتوجائز ہے اھ قلت( میں کہتاہوں) جب ایك ہیت کی تبدیلی جائز نہیں تو اصل مقصود کی تغیر کیونکر جائز ہوگی! |
او راس پارہ قبرستان میں سو برس سے کوئی قبر نہ ہونا اسے قبرستان ہونے سے خارج نہیں کرسکتا۔ امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالٰی کے قول مفتٰی بہ پر واقف کے صرف اتنا کہنے سے کہ میں نے یہ زمین مسلمان کیلئے وقف کی یا اس زمین کو مقبرہ مسلمین کردیا، وہ تمام زمین قبرستان ہوجاتی ہے اگر چہ ہنوز ایك مردہ بھی دفن نہ ہوا ۔ اورامام محمد کے قول پر ایك شخص کے دفن سے ساری زمین قبرستان ہوجاتی ہے۔اسعاف پھر ردالمحتار میں ہے:
|
تسلیم کل شیئ بحسبہٖ ففی المقبرۃ بدفن واحد وفی السقایۃ بشربہ وفی الخان |
ہر چیز کا سپرد کرنا اس کی حیثت کے مطابق ہوتا ہے تو مقبرے میں ایك شخص کو دفن کرنا ہے او رسقایہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع