30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
غرض ان لوگوں پر ضرور ہے کہ اپنے حال سقیم پر رحم کریں اور خدائے جبار قہّار جل جلالہ کے انتقام سے ڈریں اور مسلمانوں کے اموات کو ایذانہ پہنچائیں، آخر انھیں بھی اپنے امثال کی طرح ایك دن زمین میں جانا اور بیکس بے بس ہوکر پڑنا ہے۔ جیسا کہ آج یہ لوگوں کے ساتھ پیش آتے ہیں ویسا ہی اور لوگ کل ان کے ساتھ کریں گے۔
|
عنہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کما تدین تدان [1]۔ اخرجہ ابن عدی فی الکامل عن ابن عمرواحمد فی المسند عن ابی الدرداء وعبد الرزاق فی الجامع عن ابی قلابۃ مرسلًا وھو عند الاٰخرین قطعۃ حدیث، قلت ولہ شواھد جمۃ، وھو من جوامع کلمہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم |
سرکار دوعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا فرمان ہے جیسا کروگے ویسا بھرو گے،۔ اسے ابن عدی نے کامل میں ابن عمر سے ، احمد نے مسند میں ابی الدردا سے اور عبدالرزاق نے جامع میں ابو قلابہ سے مرسلًا روایت کیاہے، او رآخری دو کے نزدیك یہ حدیث کاٹکڑا ہے، قلت (میں کہتاہوں) اس کے لیے شواہد کثیر ہیں اور یہ حدیث حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے جامع کلمات میں سے ہے (ت) |
اﷲ تعالٰی کی طرف شکوے کہ یہ بلا ان جاہلوں میں ان اجہلوں کی پھیلائی ہوئی ہے جنھوں نے اموات کو بالکل پتھر سمجھ لیا کہ مرگئے اور خاك ہوگیے، نہ اب کچھ سنیں نہ سمجھیں، نہ کسی چیز سے ایذا یا راحت پائیں او رجہاں تك بَن پڑا قبور مسلمین کی عظمت قلوبِ عوام سے چھیل (سلب کر) ڈالی ۔ فانّاﷲ وانّا الیہ راجعون۔
وصلِ دوم:تنفیحِ مقام وتفضیحِ اوہام نجدیہ لیام، نقل درفتوٰی فقیر غفرلہ ملك الانعام
فتوٰی اُولٰی:
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
مسئلہ: از کلکتہ امرتلالین نمبر ۸ مرسلہ حاجی لعل خاں صاحب وبار دوم بلفظٖ از کانپور بازار نیا گنج کمپنی دادوجی دادا بھائی سورتی، مرسلہ عبدالرحیم صاحب ۲۰ ربیع الآخر شریف ۱۳۲۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین رحمہم اﷲ تعالٰی اس مسئلے میں کہ ایك طرف چند پرانی قبریں پائی جاتی ہیں او رباقی ایك تہائی سطحِ میدان پڑا ہوا ہے او ر وہاں عمر رسیدہ قریب اسی۸۰ سے سو۱۰۰ برس کے بزرگوں سے تحقیق کرنے پر وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگوں کے ہوش سے ہم لوگوں کے جاننے میں کسی حصہ اس سطح زمین میں کوئی میّت دفن نہیں ہوا ہے،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع