30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بعض المتاخرین |
امام ابو جعفر اور ان کے تا بع بعض متاخرین کے۔ |
او راس فقیر غفراﷲ تعالٰی لہ نے حضرت سیدی ابوالحسن نوری مدظلہ العالی سے سنا کہ ہمارے بلاد میں مارہرہ مطہرہ کے قریب ایك جنگل میں گنجِ شہیداں ہے، کوئی شخص اپنے بھینس لیے جاتا تھا، ایك جگہ زمین نرم تھی، ناگاہ بھینس کاپاؤں جارہا، معلوم ہو ایہاں قبر ہے، قبر سے آواز آئی :"اے شخص! تونے مجھے تکلیف دی، تیری بھینس کا پاؤں میرے سینے پر پڑا ۔"فیھا قصۃ لطیفۃ تدلّ علٰی عظیم قدرۃ اﷲ تعالٰی وعجیب صنعہٖ فی الشھداء( اس میں لطیف قصّہ ہے جو شہداء کے بارے میں اﷲ تعالٰی کی قدرت عظیمہ اور عجیب صناعی پردلالت کرتا ہے ۔ ت)اب بحمد اﷲ تعالٰی حکمِ مسئلہ مثل آفتاب روشن ہوگیا، جب حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے قبر پر بیٹھنے اور اس سے تکیہ لگانے اور مقابر میں جوتا پہن کر چلنے والوں کو منع فرمایا، اور علماء نے اس خیال سے کہ قبور پر پاؤں نہ پڑے گورستان میں جو راستہ جدید نکالا گیا ہو اس میں چلنے کو حرام بتایا او رحکم دیا کہ قبر پر پاؤں نہ رکھیں بلکہ اس کے پاس نہ سوئیں، سنت یہ ہے کہ زیارت میں بھی وہاں نہ بیٹھیں بلکہ بہتریہ ہے کہ بلحاظِ ادب پاس بھی نہ جائیں، دور ہی سے زیارت کرآئیں اور قبرستان کی خشك گھاس اگر جانور کو کھلانا جائز فرمایا مگر یوں کہ یہاں سے کاٹ کر لے جائیں نہ کہ جانوروں کو مقابر میں چرائیں، اور تصریح فرمائی کہ مسلمان زندہ ومردہ کی عزت برابر ہے، او رجس بات سے زندوں کو ایذا پہنچتی ہے مُردے بھی اس سے تکلیف پاتے ہیں ا ور انھیں تکلیف دینا حرام ، تو خود ظاہر ہوا کہ یہ فعل مذکور فی السوال کس قدر بے ادبی و گستاخی وباعث گناہ او راستحقاق عذاب ہے۔ جب مکان سکونت بنایا گیا تو چلنا پھرنا، بیٹھنا لیٹنا، قبورکو پاؤں سے روندنا ، ان پر پاخانہ ، پیشاب ، جماع سب ہی کچھ ہوگا اور کوئی دقیقہ بے حیائی اور اموات مسلمین کی ایذا رسانی کا باقی نہ رہے گاوالعیاذ باﷲ رب العٰلمین۔
علماء فرماتے ہیں: جہاں چالیس مسلمان جمع ہوتے ہیں ان میں ایك ولی اﷲ ضرور ہوتا ہے کما صرح بہ العلامۃ المناوی رحمہ اﷲ تعالٰی فی التیسیر شرح الجامع الصغیر ( جیساکہ علامہ مناوی رحمہ اﷲ تعالٰی نے تیسیر شرح جامع صغیر میں تصریح کی۔ ت)اور ظاہر ہے کہ مقابر مسلمین میں صدہا مسلمانوں کی قبریں ہوتی ہیں بلکہ خدا جانے ایك ایك قبر میں کس کس قدر دفن دفن ہیں، تو بالضرورت ان میں بندگان مقبول بھی ضرور ہوں گے، بلکہ اس امر کی اموات میں زیادہ امید ہے کہ بہت بندے خدا کے جو زندگی میں آلودہ گناہ تھے بعد موت پاك وطیب ہوگئے۔ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: الموت کفارۃ لکّلِ مسلمٍ [1]موت کفارہ گناہ ہے ہر سُنی عــــہ مسلمان کے لیے۔
عــــہ: فائدہ جلیلہ: محاورہ قرآن وحدیث میں مومن ومسلم خاص اہلسنت کو کہتے ہیں کہ(باقی اگلے صفحہ پر)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع