30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسی میں ہے :
|
کرہ وطؤھا بالاقدام لما فیہ من عدم الاحترام، وقال قاضی خان لو وجد طریقا فی المقبرۃ وھو یظن انہ طریق احد ثوہ لایمشی فی ذلك وان لم یقع فی ضمیرہ لابأس بان یمشی فیہ [1] اھ ملخصا۔ اقول: وھذا ایضادلیل مااخترناہ فانہ علق نفی البأس ان لایقع فی قلبہ انہ طریق علٰی قبر فافادو البأس فیما اذا وقع ذلك فی نفسہ وایضاقد تقدم التصریح بالحرمۃ عن الشامی والطحطاوی عن علمائنا رحمھم اﷲ تعالٰی ۔ |
قبروں کو پیروں سے روندنا مکروہ ہے کیونکہ اس میں بےحرمتی ہے۔ قاضی خاں نے کہا کہ اگر کسی شخص نے قبرستان میں کوئی راستہ دیکھا جس کے بارے میں اسے گمان ہے کہ یہ لوگوں نے نیا بنالیا ہے تو وہ اس پرنہ چلے اگر اس کے دل میں اس قسم کا خیال پیدا نہ ہوتو چلنے میں مضائقہ نہیں اھ ملخصًا، اقول: (میں کہتا ہوں)یہ بھی ہمارے قول کی دلیل ہے کیونکہ اس میں جواز کی صورت دل میں اس خیال کا نہ آناہے کہ یہ راستہ قبروں پر بنایا گیا ہے۔ جس کا صاف مطلب یہ ہو اکہ اگر اس کے دل میں اس قسم کاخیال پیدا ہو تو پھر مضائقہ ہوگا۔ نیز شامی اور طحطاوی جو ہمارے علماء ہیں رحمہم اﷲ تعالٰی ان سے منقول شدہ حرمت کی تصریح پہلے گزر چکی ہے ۔ |
علامہ اسمٰعیل نابلسی حاشیہ درر وغرر میں فرماتے ہیں:
|
لاباس بزیارۃ القبور والدعاء للاموات ان کانوا مومنین عــــہ من وطئ القبور۔ کما فی البدائع والملتقط[2] اھ۔ |
قبروں کی زیارت اور مردوں کے حق میں دعا کرنے میں حرج نہیں بشرطیکہ قبریں نہ روندی جائیں، جیساکہ بدائع اور ملتقط میں ہے۔ |
طریقہ محمدیہ میں ہے :
|
من اٰفات الرجل المشی علی المقابر [3] اھ۔ |
پَیر کی آفتوں میں سے قبروں کاروندنا ہے ۔اھ |
امام علامہ محقق علی الاطلاق ان لوگوں پر اعتراض فرماتے ہیں جن کے اعزّاء واقراباء کے گرد مخلوق دفن ہے،
|
عــــہ : علٰی صیغۃ المفعول ای اٰمنین ١٢ |
مؤمنین صیغہ مفعول ہے یعنی جب وہ محفوظ رہیں١٢ (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع