30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ان اباحنیفۃ کرہ وطء القبر ولقعود او النوم اوقضاء الحاجۃ علیہ [1]کذا نقل العلامۃ ابن امیر الحاج فی الحلیۃ۔ اقول: والکراھۃ عند الاطلاق کراھۃ تحریم کما صرحوا بہ مع مایفیدہ من النھی الواردفی الاحادیث معللًا بالایذاء والایذاء حرام فھذا ماندین اﷲ تعالٰی بہ وان قیل وقیل۔ |
ابو حنیفہ نے قبر کا روندنا ، بیٹھنا، سونا، اس پرقضائے حاجت کرنا مکروہ کہا ہے، اسی طرح ابنِ امیر الحاج نے حلیہ میں نقل کیا میں کہتا ہوں جب کراہت مطلق ہو تو مراد کراہت تحریم ہوتی ہے جیساکہ فقہاء نے تصریح کی ہے ، پھر اس نہی سے بھی تائید ہوتی ہے جو احادیث میں ایذاء کی علت سے متعلق وارد ہے اور ایذا حرام ہے پس دیانتداری کی بات یہی ہے ، اب خواہ کوئی کچھ کہتا رہے۔ |
حاشیہ طحطاوی علی شرح نورالایضاح میں سراج وہاج سے ہے :
|
ان لم یکن لہ طریق الاّ علی القبر جازلہ دلیل علیہ للضرورۃ [2] اھ اقول: وھذا ایضا دلیل علی مااخترنا من کراھۃ التحریم فان المفھوم المخالف معتبر فی الروایات وکلام العلماء بالاتفاق فافادان المشی لا یجوز بلاضرورۃ وما لایجوز فادناہ کراھۃ التحریم۔ |
اگرقبر پر ہی سے راستہ ہو تو اس پر چلنا ضرورتًا جائز ہے۔ اھ اقول: (میں کہتا ہوں) اس سے بھی ثابت کہ ہماراقول کراہت تحریمی کا درست ہے، کیونکہ مفہوم مخالف روایات اور کلام علماء میں بالاتفاق معتبر ہے، تو معلوم ہوا کہ بلاضرورت قبر پر چلنا ناجائز ہے او رجو ناجائز ہو اس کا ادنٰی درجہ مکروہ تحریمی ہے۔ |
سیدی عبدالغنی بابلسی حدیقہ ندیہ میں فرماتے ہیں :
|
قال الوالد رحمہ اﷲ تعالٰی فی شرح علی الدرر ویکرہ ان یوطء القبر لماروی عن ابن مسعود [3] الخ و ذکر اثرالذی رویناہ۔ |
والد صاحب نے درر کی شرح میں فرمایا کہ قبر کا روندنا مکروہ ہے جیسا کہ ابنِ مسعود رضی اﷲتعالٰی عنہ سے مروی ہے الخ، پھر آپ نے وہی اثر ذکر کیا جو ہم روایت کرچکے ہیں ۔ |
[1] بدائع الصنائع فصل فی سُنۃ الدفن ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ١/ ٣٢٠، تحفۃ الفقہاء باب الدفن وحکم الشہداء دارالکتب العلمیۃ بیروت ٢/ ٢٥٧
[2] حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح فصل فی زیارۃ القبور نور محمد کارخانہ تجارت کتب کرا چی ص٣٤٠
[3] حدیقہ ندیہ الصنف الثامن من الاصناف التسعۃ فی آفات الرجل نوریہ رضویہ فیصل آباد ٢/٥٠٤
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع