30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی سننہ کما فی شرح الصدور۔ اقول: وھذہ الاحادیث تویّدما اخترنا وتؤذن ان تاویل ابی جعفر رحمہ اﷲ تعالٰی لیس فی محلہ فبما فی عامۃ الکتب نأخذی لاعتقادھا بنصوص الاحادیث، ولانہ علیہ الاکثر وقد نصوا ان العمل بما علیہ الاکثر، وانہ لا یعدل عن روایۃ ماوفقتھا درایۃ فکیف اذاکان ھوا الاشھر الاظھر الاکثر الازھر وبھٰذا یضعف مازعم العلامۃ البدرفی المعدۃ فتبصر۔ |
کرتاہوں ۔ اسے سعیدبن منصور نے اپنی سنن میں بیان کیا جیسا کہ شرح الصدور میں ہے۔میں کہتا ہوں ان احادیث سے معلوم ہوا کہ جوبات ہم نے اختیار کی ہے وہ درست ہے، او رابو جعفر رحمہ اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی تاویل برمحل نہیں، لہذا ہم وہ مسلك اختیار کرتے ہیں جوعام کتب میں ہے، کیو نکہ اسے احادیث کی صراحت سے تقویت حاصل ہے ، اور ا س لیے بھی کہ اکثر کایہی قول ہے کیونکہ علماء نے صراحت کردی ہے کہ عمل اس پر ہوگا جس پر اکثریت ہوگی اوریہ کہ اس روایت سے عدول نہیں کیا جاتا ہے جو درایت کے مطابق ہو، تو پھر اس سے عدول کا جواز کیا ہوگا جو اشہر ، اظہر، اکثر اور واضح ہے، اور اسی سے علاّمہ بدر کا زعم عمدہ میں ضعیف قرار پاتا ہے۔ تو غور کیجئے۔ |
ان ہی احادیث سے ہمارے علماء رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہم نے بے ضرورت عــــہ قبر پر چلنے اور اس پربیٹھنے او رپاؤں رکھنے سے منع فرمایا کہ یہ سب حرمتِ مومن کے خلاف ترك ادب گستاخی ہے،
|
ففی النوادر والتحفۃ والبدائع والمحیط وغیرھا |
تحفہ، بدائع اور محیط وغیرہ میں ہے کہ |
عــــہ: قولہ بے ضرورت، ضرورت کی صورت مثلًا قبرستان میں میّت کے لیے قبرکھودنے یا دفن کرنے جانا چاہتے ہیں بیچ میں قبریں حائل ہیں اس حاجت کیلیے اجازت ہے، پھر بھی جہاں تك بن پڑے بچتے ہوئے جائیں اور ننگے پاؤں ہوں، ان اموات کیلیے دعا استغفار کرتے جائیں،
|
فی حاشیۃ العلامۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح عن شرح المشکوٰۃ الوطء الحاجۃ کدفن المیّت لایکرہ اھ وعن السراج فان لم یکن لہ طریق الاعلی القبر جازلہ المشی علیہ للضرورۃ [1] ۔ ١٢ منہ |
علامہ طحطاوی کے حاشیہ مراقی الفلاح میں شرح مشکوٰۃ سے ہے کہ ضرورت کے پیش نظر مثلًا میّت کو دفن کرنے جانا ہو تو قبروں پر سے گزرنا مکروہ نہیں اھ اور سراج سے ہے کہ اگرقبرپر ہی گزرنے کا راستہ ہو تواس پر چلنا ضرورتًا جائز ہے ١٢ منہ (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع