30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اقول: اس توجیہ پر امام علامہ عارف باﷲ حکیم الامۃ سیدی محمد بن علی تر مذی قدس سرہ، نے جزم فرمایا، تصریح فرماتے ہیں کہ:"ارواح کوا ن کی بے حرمتی وتنقیصِ شان معلوم ہوجاتی ہے لہذا ایذا پاتی ہیں۔"
|
سیدی عبدالغنی نے حدیقہ میں نوادر سے نقل کرتے ہوئے فرمایا: اس کے یہ معنی ہیں کہ ارواح اپنی اہانت و ذلت کو محسوس کرتی ہیں اور اس سے انھیں ایذا ہوتی ہے اھ |
قال سیدی عبد الغنی فی الحدیقۃ عن نوادر الاصول معناہ ان الارواح تعلم بالترك اقامۃ الحرمۃ وبالاستھانہ فتتأذی بذلك [1] اھ۔ |
حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
لان ام شی علی جمرۃ اوسیفٍ اواخصف نعلی برجلیہ احب الی من ان امشی علٰی قبر [2]۔ رواہ ابن ماجۃ عن عقبۃ بن عامر رضی اﷲ تعالٰی عنہ واسنادہ جیّد کما فاد المنذری۔ |
البتہ چنگاری یا تلوار پر چلنا یا جوتا پاؤں سے گانٹھنا مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ کسی قبر پر چلوں اسے ابن ماجہ نے عقبہ بن عامر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا،اس کی سند عمدہ ہے جیسا کہ منذری نے افادہ کیا۔ (ت) |
عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:
|
لان اطاء علی جمرۃ احب الی من ان اطاء علٰی قبر مسلم، رواہ الطبرانی فی الکبیر باسناد حسن [3] قالہ امام عبدالعظیم۔ |
بے شك مجھے آ گ پر پاؤں رکھنا زیادہ پیارا ہے مسلمان کی قبر پرپاؤں رکھنے سے، اسے طبرانی نے معجم کبیر میں بسند حسن روایت کیا ۔ جیسا کہ امام عبدالعظیم نے کہا ہے ۔ (ت) |
ان ہی صحابی اجل سے کسی نے قبر پر پاؤں رکھنے کا مسئلہ پوچھا ، فرمایا:
|
کما کرہ اذای المؤمن فی حیاتہ فانی اکرہ اذاہ بعد موتہ [4]۔ اخرجہ سعید بن منصور |
میں جس طرح مسلمان کی ایذا اس کی زندگی میں مکروہ جانتا ہوں یونہی بعد موت اس کی ایذا کو ناپسند |
[1] حدیقہ ندیہ الصنف الثامن الاصناف القسمۃ فی آفات الرجل مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲/۵۰۵
[2] سنن ابن ماجہ باب ماجاء فی النہی عن المشی علی القبور ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۱۳
[3] الترغیب والترتیب الترھیب من الجلوس علی القبر الخ مصطفی البابی مصر ٤/ ٣٧٢
[4] شرح الصدور باب تأدیسائروجوہ الاذی خلافت اکیڈمی منگورہ سوات ص ١٢٦
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع