30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
"اخرج الائمۃ ابوداؤد النسائی والطحطاوی وغیرھم عن بشیر بن الخصاصیۃ واللفظ للامام الحنفی ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم راٰی رجلًا یمشی بین القبور فی نعلین، فقال ویحك یا صاحب السبتیتین الق سبتیتیك [1] اھ۔ السِّبتتہ بکسر المھملۃ وسکون الموحدۃ ھی التی لاشعرفیھا۔ قال القاضی عیاض کان من عادۃ العرب لبس النعال بشعرھا غیرمدبوغۃ وکانت المدبغۃ تعمل بالطائف وغیرہ [2] الخ ۔ |
ابوداؤد ، نسائی اور طحطاوی وغیر ہم نے بشیر بن خصاصیہ سے روایت کی اور لفظ امام حنفی کے ہیں کہ رسول اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ایك شخص کو قبروں کے درمیان جوتیاں پہن کر چلتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: خرابی ہو تیری اے جوتیوں والے اپنی جوتیاں اتاردے، سبتہ مہملہ کے کسرہ اور سکون باء سے مراد وہ چمڑا ہے جس میں بال نہ ہوں، قاضی عیاض نے فرمایا: عرب والے کچے چمڑے کے مع بالوں کے جوتے پہنا کرتے تھے اور پکائے ہوئے چمڑے کے جوتے طائف وغیرہ میں بنائے جاتے تھے الخ۔ |
فاضل محقق حسن شرنبلالی اور ان کے استاذ علامہ محمد بن احمد حموی فرماتے ہیں:"چلنے میں جو آواز کفش پا سے پیدا ہوتی ہے اموات کو رنج دیتی ہے ۔"
|
حیث قال فی مراقی الفلاح اخبرنی شیخی العلامۃ محمد بن احمد الحموی الحنفی رحمہ اﷲ تعالٰی بانھم یتأذون بخفتی النعال انتھی ٣[3] اھ۔ اقول ووجھہ ماسیأتی عن العارف الترمذی رحمہ اﷲ تعالٰی ۔ |
اس لیے کہ مراقی الفلاح میں کہا کہ مجھے خبردی میرے شیخ علامہ محمد بن احمد حموی حنفی رحمہ اﷲ تعالٰی نے کہ مُردے جوتیوں کی پہچل سے تکلیف محسوس کرتے ہیں اھ۔ میں کہتا ہوں اس کی دلیل عنقریب عارف ترمذی سے منقول ہو کر آئے گی۔ |
نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
|
لان یجلس احد کم علٰی جمرۃ فتحرق ثیابہ حتی تخلص الٰی جلدہ خیرلہ من ان یجلس علٰی قبر [4]۔ رواہ مسلم وابوداؤد والنسائی |
بیشك آدمی کو آگ کی چنگاری پر بیٹھارہنا یہاں تك کہ وہ اس کے کپڑے جلا کر جلد تك توڑ جائے، اس کے لیے بہتر ہے اس سے کہ قبر پر بیٹھے، اسے مسلم وابوداؤد و |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع