30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہاں تك ہمارے علماء نے تصریح فرمائی، قبرستان میں جو نیا راستہ نکالا گیا ہو اس میں آدمیوں کو چلنا حرام ہے،
|
فی الشامیہ عن الطحطاویۃ آخر کتاب الطھارۃ نصوا علٰی ان المرورفی سکۃ حادثۃ فیھا حرام [1]۔ |
آخر کتاب الطہارۃ شامی میں طحطاوی سے ہے علماء نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ قبرستان میں جو نیا راستہ نکالا گیا ہو اس پر چلنا حرام ہے۔ |
اور فرماتے ہیں:"مقبرے کی گھاس (سبز) کاٹنا مکروہ ہے کہ جب تك وہ( گھاس سبز) تر رہتی ہے ہے اﷲ تعالٰی کی تسبیح کرتی ہے، اس (سبز گھاس) سے اموات کادل بہلتا ہےاور ان پر رحمتِ الہٰی کا نزول ہوتا ہے ،ہاں خشك گھاس کاٹ لینا جائز ہے مگر وہاں سے تراش کوجانوروں کے پاس لے جائیں، او ریہ ممنوع ہے کہ انھیں گورستان میں چرنے چھوڑدیں"۔
|
فی جنائز ردالمحتار یکرہ ایضا قطع النبات الرطب والحشیش من المقبرۃ دون الیابس کما فی البحر والدرر وشرح المنیۃ [2] وعﷲ فی الامداد بانہ مادام رطبًا یسبح اﷲ تعالٰی فیونس المیّت وتنزل بذکرہ الرحمۃ ونحوہ فی الخانیۃ انتھی ٣[3]۔ وفی العالمگیریۃ عن البحرالرائق لوکان فیھا حشیش یحش ویرسل الی الدواب ولاترسل الدواب فیھا [4] اھ۔ |
ردالمحتار کے جنائز میں ہے کہ ترگھاس کا مقبرے سے کاٹنا مکروہ ہے خشك گھاس کا نہیں، جیسا کہ بحر، درراور شرح منیہ میں ہے، اور امداد میں اس کی یہ وجہ بتائی گئی ہے کہ جب تك وہ تر رہتی ہے اﷲکی تسبیح کرتی رہتی ہے جس سے میّت کو انس حاصل ہوتا ہے ، خانیہ میں بھی اسی طرح ہے انتہی، اور علمگیریہ میں بحرالرائق سے ہے کہ اگر قبرستان میں خشك گھاس ہوتو کاٹ کر لائی جاسکتی ہے مگر جانور اس میں نہ چھوڑے جائیں اھ۔ |
نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ایك شخص کو مقابر میں جوتا پہنے چلتے دیکھا ، ارشاد فرمایا:"ہائے کم بختی تیری اے طائفی جُوتے والے! پھینك اپنی جوتی ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع