30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
واذا صارالمیّت ترابا فی القبر یکرہ دفن غیرہ فی قبرہ لان الحرمۃ باقیۃ [1] انتھی۔ |
میں میّت گل کر مٹی بھی ہوجائے تب بھی اس کی قبر میں غیر کو دفن کرنا مکروہ ہے کیونکہ اس میّت کی تعظیم و حُرمت اب بھی باقی ہے انتہی (ت) |
اور یہ بھی خزانۃ الروایۃ میں ہے :
|
لایجوز لاحدٍ ان یبنی فوق القبور بیتًا اومسجدا لان موضع القبر حق المقبور ولھذا لایجوز نبشہ [2] انتھی مختصرا۔نمقہ الراجی الی رحمۃ ربہ الشکور عبد الغفور صانہ اﷲ عن الاٰفات و الشرور۔ﷲ درالمجب حیث اجاب فاجادواصاب فیما افادہ حررہ المسکین محمد بشیر الدین عفی عنہ ۔ |
قبروں پر کسی کو گھر یا مسجد بنانا جائز نہیں کیونکہ قبروالی جگہ صاحب قبر کا حق ہے، اسی وجہ سے قبر کو کھودنا جائز نہیں ہے اھ مختصرًا۔اسے لکھا ہے اپنے رب شکور کی رحمت کے امیدوار عبدالغفور نے، اﷲ تعالٰی اسے آفات اور برائیوں سے بچائے ۔ (ت)اﷲ تعالٰی مجیب کو جزائے خیردے کہ انھوں نے عمدۃ جواب دیا اور صحیح افادہ فرمایا، اسے لکھا ہے مسکین محمد بشیر الدین عفی عنہ نے ۔(ت) |
اس فتوے کو دیکھا ، فتوٰی صحیح ہے، جواب درست ہے۔حررہ محمد عبدالرشید دہلوی عفی عنہ
الجواب صحیح۔ ( جواب صیح ہے ۔ت) محمد افضل المجید عفی عنہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع