30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسی واسطے ہمارے فقہائے کرام احناف علیہم الرحمۃ فرماتے ہیں کہ:"قبر پر رہنے کو مکان بنانا، یا قبر پر بیٹھنا، یا سونا، یا اس پر یا اس کے نزدیك بَول وبراز کرنا یہ سب اموراشد مکروہ قریب بحرام ہیں۔"فتاوٰی علمگیری میں ہے :
|
ویکرہ ان یبنی علی القبر اویقعد اوینام علیہ اویطاء علیہ او یقضی حاجۃ الانسان من بول اوغائط[1]۔ الخ |
قبر پر عمارت بنانا، بیٹھنا، سونا ، روندنا، بول وبراز کرنا مکروہ ہے ۔ |
علاّمہ شامی اس کی دلیل میں حاشیہ درمختار میں فرماتے ہیں:
|
لان المیّت یتأذی بما یتاذی بہ الحیّ [2] ۔ |
یعنی اس لیے کہ جس سے زندو ں کو اذیت ہوتی ہے اس سے مردے بھی ایذا پاتے ہیں۔ |
بلکہ دیلمی نے امّ المومنین حضرت صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے اس کلیے کی تصریح روایت کی کہ سرور عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
|
المیّت یؤذیہ فی قبرہ مایؤذیہ فی بیتہ [3] ۔ |
میت کو جس بات سے گھر میں ایذا ہوتی ہے قبر میں بھی اس سے ایذا پاتا ہے۔ |
ابن ابی شیبہ اپنی مصنف میں سیدنا عبداﷲ ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:
|
اذی المومن فی موتہ کا ذاہ فی حیاتہ [4]۔ |
مسلمان کو بعد موت تکلیف دینی ایسی ہی ہے جیسے زندگی میں اسے تکلیف پہنچائی۔ |
اور اظہر من الشمس ہے کہ قبور کو کھود کر ان پر رہنے کو مکان بنایا تو اس میں یہ سب امور موجود ہیں، جس سے یقینا اہل قبور کی توہین ہوتی ہے اور ان کو ایذا دینا ہے۔ جو ہر گز ہمارے حنفی مذہب میں جائز نہیں ہے۔ اگر کوئی معترض کہے کہ شرح کنز میں علامہ زیلعی لکھتے ہیں :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع