30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وہی جنان مستطاب حضرات ابراہیم بن شیبان قدس سرہ، سے راوی :"میرا ایك مرید جوان فوت ہوگیا، مجھ کو سخت صدمہ ہوا، نہلانے بیٹھا، گھبراہٹ میں بائیں طرف سے ابتداء کی، جوان نے وہ کروٹ ہٹا کر اپنی دہنی کروٹ میری طرف کی، میں نے کہا: جان پدر! تو سچا ہے مجھ سے غلطی ہوئی"۔ [1]
وہی امام ، حضرت ابو یعقو ب سوسی نہر جوری قدس سرہ، سے راوی :"میں نے ایك مرید کو نہلانے کے لیے تختے پر لٹایا اس نے میرا انگوٹا پکڑلیا۔ میں نے کہا: جان پدر ! میں جانتا ہوں کہ تو مردہ نہیں یہ تو صرف مکان بدلنا ہے، لے میرا ہاتھ چھوڑدے"۔ [2]
مکہ معظمہ میں ایك مرید نے مجھ سے کہا: پیر مرشد! میں کل ظہر کے وقت مرجاؤں گا، حضرت ایك اشرفی لیں، آدھی میں میرا دفن اور آدھی میں میرا کفن کریں۔ جب دوسرا دن ہوا اور ظہر کا وقت آیا مریدمذکور نے آ کر طواف کیا، پھر کعبے سے ہٹ کر لیٹا تو روح نہ تھی، میں نے قبر میں اتارا۔ آنکھیں کھول دیں۔ میں نے کہا: کیا موت کے بعدزندگی ؟ کہا: اَنا حَی وکُلُّ مُحِبُّ اﷲِ حَیّ[3] (میں زندہ ہوں اور اﷲ تعالٰی کا ہر دوست زندہ ہے )۔
نامناسب افعال کرنے سے اموات مسلمین کو ایذا ہوتی ہے۔
او ربعض عامہ مومنین اور بقیہ اموات کے ابدان گو سلامت نہ رہتے ہوں تاہم ان کی قبور پر بیٹھنے بلکہ ان پر تکیہ لگانے اور قبرستان میں جوتوں کی آواز کرنے سے ان کو ایذا ہوتی ہے۔ احادیثِ صحیحہ سے یہ امر ثابت بلاریب ہے۔ حاکم وطبرانی عمارہ بن حزم رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی ہے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے مجھے ایك قبر پر بیٹھے دیکھا، فرمایا :
|
یاصاحب القبر، انزل من علی القبر لاتؤذی صاحب القبر ولا یؤذیك ٤[4]۔ |
اورقبر والے! قبر سے اتر آ، نہ تو صاحب قبر کوایذا دے نہ وہ تجھے۔ |
سعید بن منصور اپنی سنن میں راوی : کسی نے حضرت سیدنا عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے قبر پر پاؤں رکھنے کا مسئلہ پوچھا، فرمایا:
|
کما اکرہ اذی المؤمن فی حیاتہ فانی |
مجھ کو جس طرح مسلمان زندہ کی ایذا ناپسند ہے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع