30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وزندہ اند نزد پرودگار خود، ومرزوق اندوخوشحال اند، ومردم را ارزاں شعورنیست[1]۔ |
کوچ کرگئے ہیں اور اپنے پروردگار کے پاس زندہ ہیں، انھیں رزق دیا جاتاہے، وہ خوش حال ہیں، اور لوگوں کو اس کا شعور نہیں۔ |
اور علاّمہ علی قاری شرح مشکوٰۃ میں لکھتے ہیں :
|
لافرق لھم فی الحالین ولذ قیل اولیاء اﷲ لایموتون ولکن ینتقلون من دارٍ الٰی دار [2] الخ |
اولیاء اﷲ کی دونوں حالتوں (حیات وممات) میں اصلًا فرق نہیں' اسی لیے کہا گیا ہے کہ وہ مرتے نہیں بلکہ ایك گھر سے دوسرے گھر میں تشریف لے جاتے ہیں۔ |
علامہ جلا الدین سیوطی علیہ الرحمۃ نے شرح الصدور میں اولیائے کرام علیہم الرضوان کی حیات بعد ممات کے متعلق چند روایات مستندہ لکھی ہیں جو یہاں نقل کی جاتی ہیں : امام عارف باﷲ استاذ ابوالقاسم قشیری قدہ سرہ ، اپنے رسالے میں بسند خود حضرت ولی مشہور سیدنا ابو سعید خراز قدس اﷲ ثرہ المتاز سے روای ہے کہ میں مکہ معظہ میں تھا، بابِ بنی شیبہ پر ایك جوان مُردہ پڑا پایا، جب میں نے اس کی طرف نظر کی تو مجھے دیکھ مسکرایا اورکہا :
|
یاابا سعید اماعلمت ان الاحبّا احیاء وان ماتو ا وانما ینقلون من دارٍ الٰی دار[3] ۔ |
اے ابو سعید ! کیاتم نہیں جانتے کہ اﷲ تعالٰی کے پیارے زندہ ہیں اگر چہ مرجائیں، وہ تو یہی ایك گھر سے دوسرے گھر میں بدلائے جاتے ہیں۔ |
وہی عالی جناب حضرت سیدی ابو علی قدس سّرہ، سے راوی ہیں:میں نے ایك فقیر کو قبر میں اتارا، جب کفن کھولا ان کا سرخاك پر رکھ دیا کہ اﷲ تعالٰی ان کی غربت پر رحم کرے۔ فقیر نے آنکھیں کھول دیں اور مجھ سے فرمایا: یا ابا علی اتذللنی بین یدی من یدللنی ( اے ابو علی! تم مجھے اس کے سامنے ذلیل کرتے ہو جو میرے ناز اٹھا تا ہے) میں عرض کی: اے سردار میرے! کیا موت کے بعد زندگی ہے؟ فرمایا : بل انا حَی وکل محب اﷲ حی لانصرنك بجاھی غدا [4]( میں زندہ ہوں، اور خدا کا ہر پیارا زندہ ہے، بیشك وہ وجاہت وعزت جو مجھے روز قیامت ملے گی اس سے میں تیری مدد کروں گا)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع