30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
علیہم الرحمۃ والثناء کے ابدان وکفن بھی قبور میں صحیح و سلامت رہتے ہیں وہ حضرات روزی ورزق دئے جاتے ہیں، علامہ سبکی شفاء السقام میں لکھتے ہیں:
|
وحیاۃ الشھداء اکمل واعلٰی فھذا النوع من الحیاۃ والرزق لایحصل لمن لیس فی رتبتھم، وانما حیاۃ الانبیاء اعلٰی واکمل واتم من الجمیع لانھا للروح والجسد علی الدوام علی ماکان فی الدنیا١[1] |
شہداء کی زندگی بہت اعلی ہے، زندگی اور رزق کی یہ قسم ان لوگوں کو حاصل نہیں ہوتی جوان کے ہم مرتبہ نہیں اور انبیاء کی زندگی سب سے اعلی ہے اس لیے کہ وہ جسم وروح دونوں کے ساتھ ہے جیسی کہ دنیا میں تھی اور ہمیشہ رہے گی۔ |
اور قاضی ثناء اﷲ صاحب پانی پتی تذکرۃ الموتی میں لکھتے ہیں :"
|
اولیاء اﷲگفتہ اندارواجنا اجسادنایعنی ارواح ایشاں کار اجساد مے کنند وگاہے اجساد ازغایت لطافت برنگ ارواح مے برآید، می گویند کہ رسول خدا راسایہ نبود ( صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم) ارواح ایشاں از زمین وآسمان وبہشت ہر جاکہ خواہند مے روند، وبسبب ایں ہمیں حیات اجساد آنہار ا درقبرخاك نمی خورد بلکہ کفن ہم می باند، ابن ابی الدنیا از مالك روایت نمود ارواحِ مومنین ہر جاکہ خواہند سیر کنند ،مراد از مومنین کاملین اند، حق تعالٰی اجسادِ ایشاں راقوتِ ارواح مے دہد کہ دوقبور نماز میخوانند (ا داکنند) وذکر می کنند وقرآن کریم مے خوانند [2]" |
اولیاء اﷲ کا فرمان ہے کہ ہماری روحیں ہمارے جسم ہیں۔ یعنی ان کی ارواح جسموں کا کام دیا کرتی ہیں اور کبھی اجسام انتہائی لطافت کی وجہ سے ارواح کی طرح ظاہر ہوتے ہیں کہتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا سایہ نہ تھا۔ ان کی ارواح زمین آسمان اور جنت میں جہاں بھی چاہیں آتی جاتی ہیں، اس لیے قبروں کی مٹی ان کے جسموں کو نہیں کھاتی ہے بلکہ کفن بھی سلامت رہتا ہے۔ ابن ابی الدنیاء نے مالك سے روایت کی ہے کہ مومنین کی ارواح جہاں چاہتی ہیں سَیر کرتی ہیں۔ مومنین سے مراد کاملین ہیں ، حق تعالٰی ان کے جسموں کو روحوں کی قوت عطا فرماتا ہے تو وہ قبروں میں نماز ادا کرتے اور ذکر کرتے ہیں اور قرآن کریم پڑھتے ہیں ۔ |
اور شیخ الہند محدث دہلوی علیہ الرحمۃ شرح مشکوٰۃ میں فرماتے ہیں:
|
اولیاء خدائے تعالٰی نقل کردہ شدندازیں دارفانی بداربقا |
اﷲ تعالٰی کے اولیاء اس دار فانی سے داربقا کی طرف |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع