30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
منھا انہ صح انہ یقول لواقدر علی حجرۃ الرسول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لھد متھا [1]۔ |
ان میں سے ایك یہ بات صحیح ہے کہ وہ کہتاہے میں اگر قدرت پاؤں تو روضہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو توڑ دوں ۔(ت) |
شیخ نجدی نے شہداء و صحابہ کرام کے مزار توڑنے
اور یہی علامہ بصری ایك دوسرے مقام میں لکھتے ہیں:
|
اقول: تھدیم قبور شھداء الصحابۃ المذکورین لاجل البناء علٰی قبورھم ضلالۃای ضلا لتہ انتھی مختصرا [2]۔ |
یعنی نجدی کا شہداء صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم کی قبور کو قُبّوں کی وجہ سے توڑ ڈالنا بڑی ضلالت اورگمراہی اس نجدی کی ہے (بالاختصار) ۔ (ت) |
اوریہی علامہ مذکور تیسرے مقام میں لکھتے ہیں:
|
قال بعضھم ولوکان المبنی علیہ مشھورا بالعلم والصلاح اوکان صحا بیا وکان المبنی علیہ قبّۃ وکان البناء علٰی قدر قبرہ فقط ینبغی ان لا یھدم لحرمۃ نبشہ وان اندرس اذا علمت ھذا فھذ البناء علٰی قبور ھٰؤلاء الشھداء من الصحابۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہم لا یخلو اما ان یکون واجبًا اوجائزًا بغیر کراہۃ وعلٰی کل فلا یقدم علی الھدم الاّرجل مبتدی ضال لاستلزامہ انتھاك حرمۃ اصحاب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الواجب علٰی کل مسلمٍ محبتھم ومن محبتھم وجوب توقیرھم وای توقیر ھم عند من ھدم قبور ھم حتی بدت ابدانھم واکفانھم کما ذکر بعض |
بعض علماء نے فرمایا کہ صاحب قبّہ اگر کوئی مشہور عالم، متقی یا صحابی ہے اور قبّہ صرف قبرکے برابر ہو تو اسے منہدم نہ کرنا چاہیے کیونکہ خواہ اس کا نشان بھی کیونہ مٹ جائے مگراس کا کھولنا جائز نہیں اب آپ معلوم ہونا چاہئے کہ ان شہید صحابہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم کی قبور پر عمارات بنانا یا تو واجب ہوگا یا بلاکراہت جائز،۔ اوربہر صورت منہدم کرنا جائز نہیں، اوریہ صرف وہی شخص کرسکتا ہے کو بدعتی اور گمراہ ہو کیونکہ اس سے اصحابِ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی بے حرمتی ہوتی ہے، حالانکہ ان کی تعلیم اور توقیر ہر مسلمان پر واجب ہے، اب وہ لوگ تعظیم کرنے والے کیسے قرار پاسکتے ہیں جنھوں نے شہداء کی قبور کھود ڈالیں جبکہ بعض کے جسم |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع