30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آثار قبور ظاہر ہیں اب مسلمان چاہتے ہیں کہ ان قبروں کے آثار کو محوکر کے اس زمین پر گودام وغیرہ بنائیں اوراس پر مسجد بنائیں، پس ایسا فعل یعنی قبور کو محو کرکے اوپرمسجد نیچے گودام بنانا اور اس کا استعمال جائز ہے یا نہیں؟ بعض لوگ جائز کہتے ہیں او ردلیل حدیث رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو جو حضرت علی کرم اﷲ تعالٰی کو حکم دیاتھا پیش کرتے ہیں لاتدع تمثالا الاطمستہ ولا قبر امشرفا الاسویتہ [1]( کوئی مورت مٹائے بغیر اور کوئی قبر برا بر کئے بغیر نہ چھوڑنا ۔ت) او ردوسری حدیث جس میں مسجدنبوی کے بنا کے وقت قبور توڑ نے کا ذکر ہے بھی پیش کرتے ہیں اور کہتا ہے کہ اس حکم کے مطابق ہم قبور کو برابر کریں گے او ران کے آثار کو مٹادیں گے اور مسجد ومکان اس قبرستان موقوفہ میں بنائیں گے۔ دریافت طلب یہ امر ہے کہ احناف کا اس میں قول مفتٰی بہ کیا ہے؟
الجواب:
قول مفتی بہ امر خلافی میں ہوتا ہے۔ یہ حدیث شنیعہ ہمارے ائمہ کے اجماع سے ناجائز و حرام ہے۔ توہین قبور مسلمین ایك اور قبور پر نماز کا حرام ہونا دو۔ او روقف کی تغییر تین، عالمگیری میں ہے :
|
لایجوز تغییرالوقف عن ھیأتہ [2]اھ فکیف عن اصلہ۔ |
وقف کی ہیأت تبدیل کرنا جائز نہیں اورپھر سرے سے وقف ہی کو بدلنا کیسے جائز ہوگا ! |
کہا ں قبر کی بلندی کہ حدِ شرعی سے زائد ہو اس کے دور کرنے کا حکم او رکہاں یہ کہ قبور مسلمین مسمار کرکے ان پر چلیں، اموات کو ایذا دیں، اس پر نماز پڑھ کر گناہ کے مرتکب ہوں ، نماز خراب کریں، ارشاد اقدس :لاتصلوا علٰی قبر [3](قبرپر نماز نہ پڑھو ۔ت) کی مخالف کریں اورکہاں قبور مشرکین کھودکران کی نجاست سے زمین پاك کرکے مسجد اقدس کااس پر بنا فرمانا اور کہاں قبور مسلمین کو توہین، اﷲ عزّوجل فرماتا ہے :
|
ĺN¤Cðß6B ÷"¬' DS| [4] ۔ |
کیا ہم مسلموں کو مجرموں کی طرح کردیں، تم کیسا حکم رکھتے ہو؟ (ت) |
اس مسئلہ کی تمام تفصیل ہمارے رسالہ اھلاك الوھابیین علٰی توھین قبور المسلمین میں ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
__________
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع