30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کشف الغطاء میں ہے:
|
الان دردیارنا نیز بسبب رخاوت زمین ہمیں متعارف است حتی کہ تجویز کردہ اندمشائخ درامثال ایں دیار بایں علت خشت پختہ وچوب وگرفتن تابوت راکہ ازآہن باشد [1]۔ |
اب ہمارے دیار میں بھی زمین کے ڈھیلے پن کی وجہ سے یہی متعارف ہے یہاں تك کہ مشائخ نے اس طرح کے دیار میں، اُسی علت کی وجہ سے پکی اینٹ اور لکڑی او رآہنی تابوت لگانے کو جائز کہا ہے۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
درتجنیس گفتہ رخصت دادہ است، امام اسمٰعیل زاہد کہ گردانیدہ شوند خشت ہائے پختہ خلف خشتہائے خام بہ لحد وتحقیق وصیت کردہ بود بوے ومشائخ بخارا گفتہ اند درزمین ماخشت پختہ اگر بنہند مکروہ ونباشد از برائے نرمی زمین پس بہر جاکہ زمین نرم باشد باك نیست بنہادن خشت پختہ ومانندآں از چوب [2]۔ |
تجنیس میں ہے کہ امام اسمٰعیل زاہد نے اس کی رخصت دی ہے کہ لحد میں کچی اینٹوں کے پیچھے پکی اینٹیں لگائی جائیں، اور اس کی وصیت بھی فرمائی تھی، مشائخ بخارا نے فرمایا ہے کہ اگر ہماری زمین میں پکی اینٹ لگائیں تو مکروہ نہ ہوگا اس لیے کہ زمین نرم ہے تو جہاں بھی زمین نرم ہو، پکی اینٹ او راسی طرح لکڑی کےتختے لگانے میں کوئی حرج نہیں۔ (ت) |
ان عبارات متظافرہ سے واضح ہواکہ فعلِ زید بغرض مذکور ہرگز ہرگزکسی طرح قابل مواخذہ نہیں وانا اقول ( اور میں کہتا ہوں ۔ت)بالفرض کراہت ہی مانتے تو مسئلہ خصوصًا ایسے تصریحات جماعات کثیرہ ائمہ کے بعد زینہار حدِ تفسیق تك بھی نہیں پہنچ سکتا کہ اس کی اقتداء کو مکروہ ہی کہا جائے نہ کہ عدم جواز، یہ محض جہل بعید و تعصبِ شدید ہے، معہذا نصوص سابقہ سے واضح ہوا کہ پکی اینٹ او رلکڑی کا ایك حکم ہے۔ اصل سنت کچی اینٹ اور نرکل سے چھپانا ہے ، لکڑی کے تختے اڑانے عام طورپر ان بلاد میں، حضرات متعرضین بھی استعمال کررہے ہیں، اپنے اور مولویوں کے پیچھے نماز ناجائز کیوں نہیں کہتے، مگر تحکم ان صاحبوں کاداب قدیم ہے، ولاحول ولاقوۃ الاّ باﷲ العلی العظیم، واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ واتم واحکم۔
مسئلہ ١٣٢: از ہائی سکول نجیب آباد ضلع بجنور ، معرفت حمید حسن خاں طالبعلم درجہ نہم مسئولہ اﷲرکھا مستری ٢١ محرم۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قبر کا پختہ کرانا بہتر ہے یا نہ کرانا؟ اگر پختہ بنانا بہتر ہے تو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع