30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ایصال ثواب او راستمداد عن الاموات زید کا جائز ہے یانہیں ار ارتکاب عمل ہذا زید کے پیچھے نماز پڑھنی جائز ہوگی یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
امواتِ مسلمین کو ایصال ثواب بے قید تاریخ خواہ بحفظ تاریخ معیّن مثلًا روزِ وفات جبکہ اس کاالتزام بنظرِ تذکیر وغیرہ مقاصد صحیحہ ہو،نہ اس خیال جاہلانہ سے کہ تعیین شرعًا ضروریا وصولِ ثواب اسی میں محصور، یو نہی عرس مشائخ کہ منکرات شرعیہ مثلًا رقص ومزامیر وغیر سے خالی ہو۔، اسی طرح اولیائے کرام وسائل بارگاہ ونوابِ حضرت احیائے معنی واموات صورۃ قدست اسرارہم سے استعانت واستمداد جبکہ بطور توسّل وتوسط وطلبِ شفاعت ہو، نہ معاذاﷲ بظنِ خبیث، استقلال وقدرت ذاتہ، جس کا توہم نہ کسی مسلم سے معقول نہ مسلمان ہونے پر سوئے ظن مقبول، یہ سب امور شرعًا جائز وروا ومباح ہیں جن کے منع پر شرع مطہرہ سے اصلًا دلیل نہیں۔ فقیر غفر اﷲ تعالٰی نے متعدد مسائل ورسائل مندرجہ فتاوٰی فقری مسمی بہ البارقۃ الشارقۃ علی مارقۃ المشارقۃ میں ان سب مسئلوں کی تحقیق انیق بروجہ کافی ذکر کی۔اور دربارہ استعانت خاص ایك رسالہ مسمّی بہ برکات الامداد لاھل الاستمداد تالیف کیا۔ ان کے بعد تفصیل تازہ کی حاجت نہیں، اور قبر پختہ بنانے میں حاصل ارشاد علمائے امجادر حمہم اﷲ تعالٰی یہ ہے کہ اگر پکی اینٹ میّت کے متصل یعنی اس کے آس پاس کسی جہت میں نہیں کہ حقیقۃً قبر اسی کا نام ہے بلکہ گڑھا کچّا اور بالائے قبر پختہ ہے تو مطلقًا ممانعت نہیں، یہاں تك کہ امامِ اجل فقیہِ مجتہد اسمٰعیل زاہدی نے خاص لحد میں پکی اینٹ پر نص فرمایا جبکہ کچّے چوکے کی تَہ ہواور اپنی قبر مبارك میں یونہی کرنے کی وصیت فرمائی او رمتصل میّت ممنوع مکروہ ، مگر جبکہ بضرورت تری ونرمی زمین ہو تو ا س میں بھی حرج نہیں۔ درمختا ر میں ہے:
|
یسوی المین علیہ والقصب لاالاٰجر المطبوخ والخشب لوحولہ امافوقہ فلا یکرہ ابن ملکوجاز حولہ بارض رخوۃ کالتابوت [1]۔ |
اس پرکچی انیٹیں ا وربانس چُن دے ، پکی انیٹیں اور لکڑی اس کے گرد نہ لگائے، اوپر ہو تومکروہ نہیں، ابن الملک۔ او رنرم زمین ہو تو ا س کے گرد بھی جائز ہے جیسے تابوت ۔(ت) |
حلیہ پھرردالمحتار میں ہے :
|
کرھوالا جرو الواح الخشب وقال الامام |
علماء نے پکی اینٹوں او رلکڑی کے تختوں کو مکروہ کہا ہے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع