30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرے کرائے تو جائز ہے یا نہیں؟
(٢) کسی بزرگ کے روضے کے سامنے قبریں ہیں اور وسعتِ جگہ کے لیے اس قبہ سے لگا کر اس گرد کی قبر پرمثل سائبان کے پایہ زینہ دیگر چھپر ڈالنا جائز ہے یا نہیں؟
الجواب:
(۱) جائز ہے کمافی مجمع بحار الانوار ( جیساکہ مجمع بحار الانوار میں ہے ۔ت) ہاں منکراتِ شرعیہ مثل ومزامیر سے بچنا لازم ہے۔
(٢) کسی قبر پرکوئی پایہ چننا جائز نہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ١٣٠: ازموضع شرشدی ، ڈاکخانہ رفینی، ضلع نواکھالی ، مرسلہ سید حمید الدین صاحب ٩ شعبان ١٣٣٨ھ
ماقول علمائنارحمھم اﷲ تعالٰی ( ہمارے علماء رحمہم اﷲ تعالٰی کا کیا ارشاد ہے ۔ت) ایك نہایت مشہور ومعروف بزرگ کا اتنقال ہوا اس کے وارث نے بایں نیت ا س پر گھاس کی چھت بنوادی ہے کہ زائرین اطمینان کے ساتھ صیف وشتا میں قرآن مجید پڑھ کر ثواب رسانی کرسکیں اور اس بزرگ کی قبرکا نشان باقی رہے تاکہ لوگ اس سے فیض حاصل کرسکیں، اس میں نہ چراغ جلایا جاتاہے، نہ چاندنی تانی گئی ہے نہ کسی کوقبر پرستی او رنہ قدمبوسی کی اجازت ہے، اصل قبرو متصل زمین خام ہے ۔
الجواب:
صورتِ مذکورہ میں وہ بلاشُبہہ جائز ہے، او ربنوانے والا اپنی نیك نیتی پر ثواب کا مستحق ہے، اور اس میں زائروں اور تلاوت کرنے والوں کے لیے چرا غ بھی روشن کریں،یہ قبر پر چراغ نہیں، مجمع بحار الانوار جلد ثالث میں ہے:
|
قداباح السلف البناء علٰی قبور الفضلاء الاولیاء والعلماء لیزورھم الناس ویستریحون فیہ [1]۔ واﷲ تعالٰی اعلم |
سلف نے اہل فضل اولیاء وعلماء کی قبروں پر عمارت بنانا مباح قرار دیا ہے تاکہ لوگ ان کی زیارت کریں اور ا س میں آرام لیں ۔(ت) واﷲ تعالٰی اعلم |
مسئلہ ١٣١: از بجنور مرسلہ شیخ معین الدین صاحب ماسٹر پٹواری اسکول ضلع بجنور ٢١ جمادی الاخری ١٣٢٣ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے بلحاظ نرمی زمین وحفظ نعش اپنے پیر طریقت کی قبر کو پختہ بنوایا اور سالیانہ تاریخ وفات شیخ پر قرآن شریف اور درود وکلمہ پڑھوا کر شیخ مذکور کی رُوح پر فتوح کو ایصال ثواب کرتا ہے اور بامید فیضان وحلِ مشکلات شیخ کی قبر پر جاکر بیٹھتاہے اور وساطۃً اس سے استمداد کرتا ہے تو یہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع