30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مذکور تورپشتی فرمایا:
|
قلت فیستفاد منہ انہ اذا کانت الخیمۃ لفائدۃ مثل ان یقعد القراء تحتھا فلا تکون منھیۃ، قال ابن الھمام واختلف فی اجلاس القارئین لیقرأ واعند القبر والمختار عدم الکراھۃ [1]۔ |
میں کہتا ہوں تو اس سے مستفاد ہو اکہ جب خیمہ کسی فائدہ کے تحت ہو مثلًا یہ کہ قرآن پڑھنے والے اس کے نیچے بیٹھیں گے تو ممنوع نہ ہوگا۔ ابن ہمام نے فرمایا: قبر کے پاس بیٹھ کر پڑھنے کے لیے جوٹاٹ بچھتے ہیں ان سے متعلق اختلاف ہے، مختاریہ ہے کہ کراہت نہیں۔(ت) |
شیخ الاسلام کشف الغطاء میں فرماتے ہیں:
|
اگر غرضے صحیح داشتہ باشد ' دراں باك نیست بآں چنانکہ دربنائے قبر بہ نیت آسائش مردم وچراغ افرو ختن درمقابربقصد دفع ایذائے مردم از تاریکی راہ ونحو آں گفتہ اند، کذا یفھم من شرح الشیخ [2]۔ |
اگر کوئی صحیح غرض ہو تو اس میں حرج نہیں جیسے لوگوں کے آرام کے لیے قبر کے پاس عمارت بنانے اور راستے کی تاریکی سے لوگوں کی تکلیف دفع کرنے کے لیے قبرستان میں چراغ جلانے ا وراس طرح کے کاموں میں علماء نے فرمایا ہے____ شیخ کی شرح سے ایسا ہی سمجھ میں آتا ہے ۔(ت) |
صحیح بخاری شریف میں ہے :
|
عن عائشۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھا عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال فی مرضہ الذی مات فیہ لعن اﷲ الیہود والنصاری اتخذ واقبور انبیاء ھم مسجدا قالت ولولا ذاك لابرزوا قبرہ [3]۔ |
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کرتی ہے کہ حضور نے اپنے مرضِ وفات میں فرمایا: یہود ونصارٰی پر خدا کی لعنت ہو انھوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجد بنالیا۔ اگریہ ارشاد نہ ہوتا تو حضور کی قبر انور نمایاں رکھی جاتی ۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع