30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں معتقد ین کو وہاں بیٹھنے کی بہت تکلیف رہتی ہے، پس اگر معتقدین مذکورین واسطے اپنے استفاضہ طریقت اس قبر کے گرداگرد چبوترہ پختہ دیوار او رچار دیواری پختہ بنادیں او راوپر سے کھلی ہوئی رکھیں اور قبر کو خام رہنے دیں تو جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
صورت مذکورہ فی السوال جائز ہے۔ ائمہ دین نے مزراتِ حضرات علماء ومشائخ قدست اسرار ہم کے گرد زمین جائز التصرف میں اس غرض سے کہ زائرین ومستفیدین راحت پائیں عمارت بنانا جائز رکھا، اور تصریحات فرمائیں کہ علت منع نیت فاسدہ یا عدم فائدہ ہے توجہاں نیت محمود اور نفع موجود منع مفقود۔ تفصیل صور وتحقیق اغر اس مسئلہ میں یہ ہے کہ اگر پہلے عمارت بنالی جائے بعدہ اس میں دفن واقع ہو جب تو مسئلہ بناء علی القبر سے متعلق ہی نہیں کہ یہ اقبار فی البناء ہے، نہ بناء علی القبر، علامہ طرابلسی برہان شرح مواہب الرحمن، پھر علامہ شرنبلالی غنیہ ذوی الاحکام،پھر علامہ سید ابوالسعود ازہری فتح اﷲ المعین، پھر علامہ سید احمد مصری حاشیتین در ومراقی الفلاح میں فرماتے ہیں :
|
واللفظ الغنیۃ قال قال فی البرھان یحرم البناء علیہ للزینۃ ویکرہ للاحکام بعد الدفن لا الدفن مقام بنی فیہ قبلہ لعدم کونہ قبر حقیقۃ بدونہ [1] اھ |
الفاظ غنیہ کے ہیں کہا کہ برہان میں ہے کہ قبر پر زینت کے لیے عمارت بنانا حرم ہے او ردفن کے بعد پختگی ومضبوطی کے لیے بنانا مکروہ ہے، جہاں پہلے سے عمارت تھی وہاں دفں مکروہ نہیں کیونکہ بغیر دفن کے وہ جگہ حقیقۃً قبر نہیں اھ (ت) |
اور اگر دفن کے بعد تعمیر ہو تو اس کی دو۲ صورتیں ہیں: ۱ایك یہ کہ خود نفسِ قبر پر کوئی عمارت چُنی جائے اس کی ممانعت میں اصلًا شك نہیں کہ سقفِ قبر و ہوائے قبر حق میّت ہے، معہذا اس فعل میں ا س کی اہانت واذیت، یہاں تك کہ قبر پر بیٹھنا ، چلنا ممنوع ہوا نہ کہ عمارت چننا، ہمارے بہت علمائے مذہب قدست اسرارہم نے احادیث وروایات نہی عن النباء سے یہی معنٰی مراد لیے اور فی الواقع بناء علی القبر کے حقیقی معنٰی یہی ہیں۔ گرد قبر کوئی مکان بنانا حول القبر ہے کہ علی القبر۔جیسے صلٰوۃ علی القبر کی ممانعت بجنب القبر کو شامل نہیں کما نص علیہ العلماء قاطبۃ وبیناہ فی فتاوٰنا ( جیسا کہ علماء نے بالاتفاق اس کی تصریح کی ہے اور ہم نے اپنے فتاوٰی میں اسے بیان کیا ہے ۔ت)امام فقیہ النفس فخر الملۃ والدین اوزجندی خانیہ میں فرماتے ہیں:
[1] غنیہ ذوی الاحکام فی بغیہ درر الاحکام باب الجنائز مطبعۃ احمد کامل الکائنہ دارالسعادت بیروت ۱/ ١٦٧
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع