30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
امشی علی القبر [1]۔ رواہ ابن ماجۃ عن عقبۃ بن عامر رضی اﷲ تعالٰی عنہ بسند جید۔ |
اسے ابن ماجہ نے عقبہ بن عامر رضی اﷲ عنہ سے بسند جید روایت کیا۔ |
نیز نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
|
کسر عظم المیّت یوذیہ فی قبرہ مایوذیہ فی بیتہ [2] وقال عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ اذی المومن فی موتہ کاذاہ فی حیاتہ [3] وعن عمارۃ بن حزم رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال رانی رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم جالسا علی قبر فقال یا صاحب القبر انزل من علی القبر لاتؤذی صاحب القبر [4] ۔ |
مُردے کی ہڈیاں توڑنا او راسے ایذا دینا ایسا ہے جیسے زندے کی ہڈی توڑنا، او رایك روایت کے الفاظ یہ ہے: میّت کو قبر کے اندربھی اس چیز سے ایذاہوتی ہے جس سے گھر کے اندر ایذاہوتی تھی، حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں: بحالت وفات مومن کو ایذا دینا ایسے ہے جیسے اسے زندگی میں ایذا دینا۔ حضرت عمارہ بن حزم رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں مجھے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ایك قبر پر بیٹھے دیکھا تو فرمایا: اے قبر سے لگنے والے! قبر سے اُتر جا، صاحب قبر کو ایذا نہ دے ۔(ت) |
ان تمام صحیح حدیثوں اور ان کے سوا اور احادیث کثیرہ سے ثابت ہے کہ قبر پر بیٹھنا یا پاؤں رکھنا بلکہ صرف اُس سے تکیہ لگانے سے میّت کو ایذاہوتی ہے۔ او رمردہ مسلمان کی ایذا ایسی ہے جیسے زندہ مسلمان کی۔ تواس پر تجھے پانی بہانا کس قدر باعث ایذاہوگا۔ جب زندہ مردہ اس میں برابر ہیں تو کیا یہ شخص روا رکھے گا کہ پاخانے کے بدرو کا پانی اس پر بہایا جائے یا لوگ اس کے سینے او رمُنہ پر پیشاب کیاکریں، یا دھوبی ناپاك کپڑے دھوکر وہ پانی اس کے منہ اور سر پر چھڑك دیا کریں، ہر گز کوئی مسلمان بلکہ کافر اسے اپنے لیے روانہ رکھے گا، تومیّت مسلمانوں کے لیے ایسی سخت ایذا کس دل سے روارکھی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
من اٰذی مسلمًا فقد اذانی ومن اذانی فقد اٰذی اﷲ [5]۔ رواہ الطبرانی عنہ |
جس نے کسی مسلمان کو بلاوجہ شرعی ایذادی ا س نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اﷲ کو |
[1] سنن ابن ماجہ باب ماجاء فی النہی عن المشی علی القبر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ١/ ١١٣
[2] سنن ابوداؤد کتاب الجنائز آفتاب عالم پریس لاہور ٢/ ١٠٢
[3] مرقاۃ شرح مشکوٰۃ بحوالہ ابن ابی شیبہ باب دفن المیّت مکتبہ امدادیہ ملتان ٤/ ٧٩
[4] مرقاۃ شرح مشکوٰۃ بحوالہ الطبرانی والحاکم باب دفن المیّت مکتبہ امدادیہ ملتان ٤/ ٦٩
[5] کنز العمال بحوالہ طب عن انس رضی اﷲ عنہ حدیث ٧٠٣ موسسۃالرسالۃ بیروت ١٦/ ١٠
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع