30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یخیر المالك بین اخراجہ ومسا واتہ بالارض [1]۔ |
مالك کو اختیار ہے کہ اسے نکال دے یا زمین کے برابر کردے ۔(ت) |
صفوفِ نماز کی شرعًا کس قدر حرمت وتعظیم ہے، مگر جو صفیں قبل تمامی صف اول کرلی جائیں، حدیث وفقہ حکم فرماتے ہیں کہ ان صفوں کو چیرتے ہوئے جاکر صفِ اوّل پوری کریں کہ خلاف شرع قائم ہونے کے سبب ان کی حرمت نہیں، یہ حق اﷲ میں ہے ۔ حق العبد تو اشد ہے۔ پھر بھی اگر صاحبِ حق اس کا لحاظ کرکے اپنے حق سے درگزر کرے کہ مردہ بدست زندہ اس نے خود قصور نہ کیا۔ توا مید ہے کہ حق سبحٰنہ وتعالٰی اُسے اجر عظیم فرمائے گا۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ١٢٤: از بمبئی ، محلہ نل بازار ، دکان سیٹھ شمس الدین وامیر الدین مرسلہ امیر الدین معرفت سید محمد مہدی حسن میاں صاحب ٨ ربیع الاول ١٣٣١ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص قبرستان خاص یا قرب قبرستان مکان تعمیر کرے، اور پاخانہ بھی تعمیر کرے۔ پاخانہ کی موری کا غلیظ پا نی قبروں پر ہو کر جائے تو ایسی جگہ مکان بغرض سکونت و رہائش بنا نا جائز ہے یا نا جائز؟ ایسی جگہ کہ کپڑوں کے دھونے سے غلیظ پانی کپڑوں کا قبروں پر سے جاری ہے وہاں دھوبی کپڑے دھوسکتا ہے او راگر وہ جگہ بقبضہ مسلمان ہے یا ملکیت مسلمان ہے تو مسلمان اگر مانع نہ آئے، یا بطمع کرایہ دھوبی کے اس عمل مذکور کوجاری رہنے دے۔ بینوا توجروا
الجواب:
قبرستان وقف ہے اور وقف میں اپنی سکونت کا مکان بنانا وقف بیجا ہے او راس میں تصرف بیجا حرام ہے پھر اگر اس قطعہ میں قبور بھی ہوں اگر چہ نشان مٹ کرناپید ہوگئی ہوں جب تو متعدد حراموں کا مجموعہ ہے، قبروں پر پاؤں رکھنا ہوگا، چلنا ہوگا، بیٹھنا ہوگا، پیشاب پاخانہ کرنا ہوگا، او ریہ سب حرام ہے۔ اس میں مسلمانوں کو طرح طرح ایذا ہے او ر مسلمان بھی کون، اموات کہ شکایت نہیں کرسکتے، دنیا میں عوض نہیں لے سکتے، بے وجہ شرعی مسلمانوں کی ایذا اﷲ ورسول کی ایذا ہے، اﷲ ورسول کو ایذا دینے والا مستحق جہنم۔ اسی طرح اگر قبرستان کے قریب مکان بنایا ، پاخانے یا دھوبیوں کے غلیظ پانی کا بہاؤ قبور پر رکھا تو یہ بھی سخت حرام ہے اور جو باوصفِ قدرت اُسے منع نہ کرے وہ بھی مرتکب حرام ہے اوربطمع کرایہ اُسے روارکھنا سستے داموں دوزخ مول لینا ہے، یہ کام اُسی شخص کے ہو سکتے ہیں جس کے دل میں نہ اسلام کی قدر ، نہ مسلمانوں کی عزت، نہ خدا کا خوف، نہ موت کی ہیبت، والعیاذ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع