30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جائز ہے یا نہیں؟
الجواب:
حرام ، حرام، حرام۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ١٢٣: از بنگالہ ضلع سلہٹ موضع شوبیدپور مرسلہ مولانا انوار لدین صاحب ٢٤ شعبان المعظم ١٣٢٠ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قبرستان وقف میں کسی کو اپنی سکونت یا ذاتی منفعت کے لئے مکان بنایا، یا مقبرہ غیر وقف میں مالك کا خاص قبور پر یا قبروں سے جدا مکان تعمیر کرنا، خصوصًا اس قبر پر جو بلااجازتِ مالك اس کی زمین میں بنالی ہو، اس میں سے میّت کو نکال کر یا بے نکالے ہوئے جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
مقبرہ وقف میں اپنا مکانِ سکونت بنانا یا خلافِ وقف اپنے کسی تصرف وانّتفاع میں لانا حرام ہے ۔ فان الوقف لا یملك ولا یخالف( اس لیے کہ وقف کو نہ اپنی ملك بنایا جاسکتا ہے نہ اس کے مقررہ مقصد کے خلاف کیا جاسکتاہے ۔ت) اورمالك کو اپنی زمین مملوك میں قبروں سے جدا مکان بنانا روا، فان الملك مطلق لہ والمالك لا یحجر ( اس لیے کہ ملك اس کے لیے مطلق ہے ا ور مالك روکا نہیں جاسکتا ۔ت) اور قبور پر کہ اس کی اجازت سے بنی ہوں ناروا،
|
لما فیہ من استھانۃ بالمسلمین وقد حققنا مایتعلق بھذافی فتاوٰنا بمالا مزید علیہ ومن سعی فی نقض ماتم من جہتہ فسعیہ مردود علیہ۔ |
اس لیے کہ ا س میں مسلمان کی اہانت ہے اس سے متعلق تمام باتون کی کامل تحقیق ہم نے اپنے فتاوٰی میں کردی ہے اور جو اس عہد کو توڑنے کی کوشش کرے جو اسی کی جانب سے تمام ہوا تو اس کی کوشش اس پر رد کردی جائیگی ۔ (ت) |
مگر جو قبر ظلمًا بلااجازت مالك بنالی جائے اس کے لیے کچھ حق نہیں۔
|
لقولہ صلی اﷲ علیہ وسلم لعرق ظالم حق [1] |
کیونکہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد ہے : ظالم کی رگ کا کوئی حق نہیں۔ (ت) |
علماء اجازت دیتے ہیں کہ چاہے میّت کو نکلوادے' چاہے یونہی زمین اپنے تصرف میں لائے ۔درمختار میں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع