30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وقد انکشفت قدم لما انہدم جدر الحجرۃ الشریفۃ فی زمان الولید ففزع الناس وظنوا انھا قدم النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فما وجدوا احد یعلم ذٰلك حتی قال لھم عروۃ لا واﷲ ماھی قدم البنی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ماھی الا قدم عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ[1] کما فی صحیح البخاری عن ھشام عن ابیہ واخراج ابن زبالۃ وغیرہ ان قال عمربن عبدالعزیز رضی اﷲ تعالٰی عنہ لمن امرہ بناء الحائط ان غط مارأیت ففعلہ۔ |
ولید کے زمانے میں جب روضہ پاك کی دیوار منہدم ہوئی تو ایك قدم کھل گیا جس سے لوگ گھبرا ا ٹھے، انھیں گمان ہوا کہ یہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا قدم مبارك ہے۔ کسی ایسے آدمی کو تلاش کیاجو اس سے آگاہ ہو یہاں تك کہ حضرت عروہ نے کہا بخدا یہ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا قدم نہیں، یہ تو حضرت عمر رضی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا ہی قدم ہے۔ جیسا کہ صحیح بخاری میں ہشام بن عروہ سے مروی ہے وہ اپنے والد سے راوی ہیں اور ابن زبالہ وغیرہ نے روایت کی ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے جس کو دیوار تعمیر کرنے کا حکم دیا تھا اس سے فرمایا جو تم نے دیکھا اُسے چھپادو ، اس نے تعمیل کی ۔(ت) |
اور اس بارے میں کوئی صورت بیان میں نہ آئی ستر لازم ہے اور کشف ممنوع، ا س طرح چھپائیں کہ زیادہ نہ کھولنا پڑے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ١١٦: از کلکتہ زکریا اسٹریٹ نمبر ٢٢ مسئولہ مولوی عبدالحق ومولوی کریم صاحبان بمعرفت حاجی لعل خاں صاحب ٢٦ رمضان المبارك ١٣٣٧ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك پیر نے اپنے مرض الموت میں اپنے وطن سے دُور ایك مرید سعید ورشید کے شہر میں اپنے دفن کی خواہش کی، بعد وصیت اور اسی مرض الموت میں وہاں پہنچ گئے اور بعد انتقال وہیں دفن ہوئے، اب چار برس چند ماہ کے بعد اس پیر کا فرزند جس کے سامنے اس کے باپ نے اپنے مرید کو وصیت کی تھی کہ ہم تمھارے شہر میں دفن ہوں، بسبب نزاع کے اس مرید سے چاہتا ہے کہ نعش کو اس حجرے سے اکھاڑ کر وطنِ شیخ یا اسی شہر میں جہاں اب مزار ہے دوسری جگہ لے جاکر دفن کرے، آیا یہ امر ممکن ہے کہ نبش مسلم کیا جائے جس سے سراسر توہین میّت متصور ہے اور وصیت متوفی کو جو اس اہتمام کے ساتھ کی ، توڑدیا جائے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع