30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بامورھم وصاحب المیّت بامرہ [1] ۔ |
متفرق ہوجائیں ، لوگ اپنے اپنے کام میں مشغول ہوں اہل میّت اپنے کام میں مصروف ہوں ۔(ت) |
بالجملہ قولِ فیصل جس سے اختلاف زائل، اور توفیق حاصل ہو یہ ہے کہ نفس تعزیت و دعا و ایصال ثواب بیشك محمود ومندوب اور وقتِ دُعاہاتھ اٹھانا بھی جائز ، اوراگر کوئی شخص اولیائے میّت کے مکان پر جاکر تعزیت کر آئے تو بھی قطعًا روا۔
مگر اولیاء کا خاص اس قصد سے بیٹھنا اور لوگوں کا ان کے پاس ہجوم ومجمع کرنا خواہ قبل دفن ہو یا بعد اُسی وقت اگر ہو یا کبھی مکان میّت پر ہو یا کہیں اور، بہر طور جائز و مباح ہے جبکہ متکرات شرعیہ سے خالی ہو، مگر اس کا نہ کرنا افضل ہے، نہ یہ کہ قطعًا حرام اور گناہ اور فاعل مبتدع وگمراہ ٹھہرے۔
|
سبحانك ھذا بھتان عظیم قلت وبہذا تتفق الکلمات من قول قوم لاباس بہ وقوم اٰخرین انہ یکرہ ویکون ماثبت بالحدیث المذکور بیانا للجواز فاتقن ھذا التحریر الفرید فانہ ان شاء اﷲ التحقیق الوسیط وان خالف زعم الفریقین من اھل الافراط و التفریط، واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم بالصواب والیہ المرجح والماٰب ۔ |
تجھے پاکی ہے۔ یہ بڑا بہتان ہے۔ قلت( میں کہتا ہوں) اور اس تفصیل سے کلماتِ عالماء میں تطبیق بھی ہوجاتی ہے کہ کچھ لوگوں نے کہا ہے اس میں کوئی حرج نہیں، اورت دوسرے حضرات نے کہا ہے کہ یہ مکروہ ہے___ اور حدیث مذکور سے جو ثابت ہوا ہو بیانِ جواز کے لئے ہوگا___ تو اس منفرد تنقیح کو اچھی طرح محفوظ کرلو کہ ان شاء اﷲ یہ درمیانہ تحقیق ہے اگر چہ دونو ں فریق کے افراط و تفریط والوں کے برخلاف ہو___ ا ور خدائے پاك وبرتر درستی کو خوب جاننے والاہے اور اسی کی جانب رجوع ومآب ہے ۔(ت) |
مسئلہ ١١١: ٢٥ ربیع الآخر شریف ۱۳١١ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ میّت کی تعزیت بعد دفن ہی چاہئے یا پیش از دفن بھی جائز ہے ؟ بینوا توجروا
الجواب:
افضل یہ ہے کہ بعد دفن قبرسے پلٹ کر ہو کما فی الجواھرۃ وغیرھا ( جیسا کہ جوھرۃ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع